اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور مسلح افواج ملکی خودمختاری و سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ اہم بیان اسلام آباد میں ‘معرکۂ حق’ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف ریئر ایڈمرل شفقت علی اور ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف ایئر وائس مارشل طارق غازی بھی موجود تھے۔
‘معرکۂ حق’ اور ملٹی ڈومین آپریشنز کے ثمرات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ‘معرکۂ حق’ نے خطے میں طاقت کے توازن اور جدید جنگی حکمت عملی کے نئے اور اہم پہلوؤں کو پوری دنیا پر واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ‘ملٹی ڈومین آپریشنز’ (Multi-Domain Operations) کے ذریعے دشمن کو اس کی جارحیت کا انتہائی مؤثر جواب دیا اور دنیا کے سامنے اپنا اصولی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔
جدید جنگی چیلنجز اور بھارت کے بے بنیاد الزامات
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ جدید دور کی جنگ اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی ہے۔ آج کے دور میں سائبر اسپیس، اطلاعاتی جنگ (Information Warfare)، فضائی، بحری اور زمینی محاذ سب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔
بھارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ:
- بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات تو لگائے جاتے ہیں، لیکن آج تک عالمی سطح پر اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔
- اس کے برعکس، عالمی برادری آج پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست اور خطے میں امن کے سب سے بڑے داعی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پاکستان کی مقامی اور جدید دفاعی صلاحیتیں
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی موجودہ جدید دفاعی صلاحیتوں میں درج ذیل ہتھیار اور سسٹمز نمایاں ہیں:
- جدید ترین میزائل سسٹمز
- ڈرونز اور جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی (Anti-Drone Technology)
- دورِ حاضر کے جدید ٹینک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپیں
- الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹس (Electro-Optical Satellites)
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اور امن کا عزم
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘معرکۂ حق’ کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انتہائی مؤثر اور کامیاب کارروائیاں کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک پیغام دیا کہ "پاکستان جنگ ہرگز نہیں چاہتا، تاہم اگر ملکی سالمیت اور خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو دشمن کو اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔”
بھارتی ‘بلیو واٹر نیوی’ کے دعوے اور حقیقت
پریس کانفرنس کے آخر میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف ریئر ایڈمرل شفقت علی نے خطاب کرتے ہوئے ‘معرکۂ حق’ کو ایک تاریخی اور یادگار معرکہ قرار دیا۔ انہوں نے بھارتی بحریہ کے کھوکھلے دعووں کو بے نقاب کرتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا:
"بھارتی بحریہ خود کو ‘بلیو واٹر نیوی’ (Blue Water Navy) اور خطے کی سب سے بڑی بحری طاقت قرار دیتی تھی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس معرکے کے دوران پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کی ہمت کیوں نہ کر سکی؟”
