Turkiya-Logo-top

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے نئے دور کی تیاری، سرکاری ڈیٹا کو قومی اثاثہ قرار دینے کی تجویز

پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کو جدید بنانے کے لیے حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا مسودہ جاری کر دیا ہے اس مجوزہ پالیسی میں سرکاری ڈیٹا کو قومی اسٹریٹجک اثاثہ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے جس کا مقصد حکومتی معلومات کو محفوظ، منظم اور مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کیے گئے اس مسودے کو عوامی مشاورت کے لیے پیش کیا گیا ہے پالیسی کے تحت وفاقی اداروں میں ڈیٹا جمع کرنے، محفوظ رکھنے، شیئر کرنے اور استعمال کرنے کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرایا جائے گا جبکہ اس پر عمل درآمد کے لیے نئے ادارہ جاتی ڈھانچے بھی قائم کیے جائیں گے

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پالیسی کے مطابق سرکاری ڈیٹا حکومت یا کسی ادارے کی ملکیت نہیں ہوگا بلکہ ریاست اسے عوام کی امانت کے طور پر محفوظ رکھے گی سرکاری اداروں کو صرف اس ڈیٹا کا نگہبان یا کسٹوڈین قرار دیا جائے گا جن کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ معلومات کی حفاظت، درستگی، معیار اور قانونی تقاضوں کے مطابق اس کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

مجوزہ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومتی ڈیٹا پاکستان کے قانونی اختیار اور مؤثر کنٹرول میں رہے گا اگر کسی صورت بیرونِ ملک ڈیٹا منتقل کرنا ضروری ہوا تو یہ صرف قانون کے مطابق اور مناسب حفاظتی اقدامات کے تحت ہی ممکن ہوگا۔

اس پالیسی کا ایک اہم حصہ "وصل” (WASL) کے نام سے قومی ڈیٹا ایکسچینج کا قیام بھی ہے اس نظام کے ذریعے مختلف سرکاری ادارے محفوظ انداز میں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کر سکیں گے جس سے شہریوں کو ایک ہی معلومات مختلف دفاتر میں بار بار جمع کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اسی مقصد کے تحت "ونس اونلی” اصول بھی متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اصول کے مطابق شہری ایک مرتبہ حکومت کو جو معلومات فراہم کرے گا، وہی معلومات متعلقہ سرکاری ادارے آپس میں شیئر کر سکیں گے، سوائے ان معاملات کے جہاں قانونی یا تصدیقی ضرورت پیش آئے۔

پالیسی میں مصنوعی ذہانت، یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے استعمال سے متعلق بھی واضح رہنما اصول شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ AI کو عوامی خدمات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم شہریوں کے بنیادی حقوق، پرائیویسی اور جہاں ضروری ہو انسانی نگرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ایسے AI نظام جو لوگوں کی زندگیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں، ان پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

مجوزہ پالیسی شہریوں کو اپنے ذاتی ڈیٹا پر مزید اختیارات بھی دیتی ہے۔ شہری یہ جان سکیں گے کہ ان کا ڈیٹا کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا، غلط معلومات کی تصحیح کی درخواست دے سکیں گے، قانونی طور پر ممکن ہونے پر اپنا ڈیٹا حذف کروا سکیں گے، اور خودکار نظاموں کے اہم فیصلوں پر انسانی نظرثانی کا مطالبہ بھی کر سکیں گے۔

پالیسی کے مطابق پورے نظام کی نگرانی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کرے گی، جبکہ ایک نیشنل چیف ڈیٹا آفیسر اور مختلف وفاقی اداروں میں چیف ڈیٹا آفیسرز تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطے کے لیے نیشنل ڈیٹا گورننس کونسل بھی قائم کی جائے گی۔

اداروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے باقاعدہ آڈٹس اور نیشنل ڈیٹا میچورٹی انڈیکس متعارف کرانے کی بھی تجویز دی گئی ہے، تاکہ ڈیجیٹل گورننس کے معیار کو مسلسل بہتر بنایا جا سکے۔

فی الحال یہ پالیسی عوامی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ مختلف شعبوں سے تجاویز اور آراء حاصل کرنے کے بعد اسے وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے حتمی نفاذ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اگر یہ پالیسی منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری خدمات کی فراہمی، شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

Read Previous

لاہور ٹیوشن سینٹر سانحہ: 14 بچوں کی ہلاکت، مالک مکان سمیت 3 افراد گرفتار

Leave a Reply