fbpx
ozIstanbul

بین الاقوامی اداروں کے تخمینوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستانی معیشت تیزی سے بحالی کی طرف گامزن

پاکستان کی معیشت نے توقع سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کووڈ 19 کے دوران تمام بڑے معاشی اشاروں پر مثبت رجحان دکھایا جس کے نتیجے میں رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.94 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال منفی 0.47 فیصد تھی۔
نمو کے اعدادوشمار حیران کن ثابت ہوئے کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد لگایا تھا جبکہ وزارت خزانہ نے تخمینہ اس سے مزید تھوڑا کم گایا تھا۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک کی جانب سے نمو کا تخمینہ رواں مالی سال کے لیے بالترتیب 1.3 فیصد اور 1.5 فیصد کے درمیان تھا۔
متعدد سالوں سے سروسز کا شعبہ ملک میں معاشی نمو کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے اور اس سال اس میں 4.43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بڑے شعبوں میں سروسز کی فراہمی میں کورونا وئرس نے رواں سال بھی خدمات کے شعبے کو جزوی طور پر متاثر کیا ہے۔

تاہم زراعت کے شعبے میں 2.77 فیصد ترقی ہوئی ہے جبکہ صنعتی پیداوار میں 3.57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اعدادوشمار مجموعی مقامی مصنوعات (جی ڈی پی) کا جائزہ لینے کے لیے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کے سیکریٹری حمید کی زیرصدارت قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 103 ویں اجلاس میں مرتب کیے گئے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تیسرے سال میں معیشت کی مجموعی طور پر ایک بہتر تصویر پیش کرتے ہوئے ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جی ڈی پی اور گراس فکسڈ کیپیٹل فارمیشن (جی ایف سی ایف) کے لیے مالی سال 2020-21 کے تخمینے 6 سے 9 ماہ کے تازہ دستیاب ڈیٹا کے مطابق پیش کیے گئے ہیں۔

جمعہ کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کیا کہ یہ شرح نمو کورونا کی وبا پر قابو پاتےہوئےاختیار کی گئی ہماری معاشی پالیسیوں کی کامیابی کی عکاس ہے۔
2020-21 کے دوران ملک کی جی ڈی پی کا حجم 477 کھرب 9 ارب روپے رہا جبکہ اس سے گزشتہ سال یہ 415 کھرب 55 ارب 60 کروڑ روپے تھا جو 14.8 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

تاہم اس کے برخلاف 2020-21 میں جی ڈی پی کا حجم 296 ارب ڈالر ہو گیا جو 2019-20 میں 263 ارب روپے تھا جو 33 ارب یا 12.54 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کے ساتھ ڈالر کے لحاظ سے معیشت میں بہتری آئی، یہ کسی بھی سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

2020-21 کے لیے فی کس آمدنی 2 لاکھ 46 ہزار 414 روپے لگائی گئی ہےجبکہ گزشتہ مالی سال یہ 2 لاکھ 15 ہزار 60 روپے تھی جس میں 14.6 فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے۔

ڈالر کے لحاظ سے فی کس آمدنی رواں مالی سال کے دوران 13.4 فیصد اضافے سے ایک ہزار 543 ڈالر ہوگئی ہے جو گزشتہ سال ایک ہزار 361 ڈالر تھی۔

وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ جی ڈی پی کی نمو اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مضبوطی کی وجہ سے فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں ایسے وقت میں نمو جب کووڈ 19 نے معیشت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج کھڑا کردیا تھا، حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے جی ڈی پی کی نمو کو قابل ذکر بحالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی نمو کے مقابلے میں غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کرنٹ اکاؤنٹ میں اضافے کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس ترقی کے پیچھے صنعتوں کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گندم اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ بہتر ہوئی تو پورے سال کے اعدادوشمار کا آخری تخمینہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
زراعت کا شعبہ
مالی سال 2020-21 کے دوران زراعت کے شعبے میں 2.77 فیصد کا اضافہ ہوا جو 2019۔20 میں 3.31 فیصد تھا۔

گندم، چاول اور مکئی کی تاریخ میں سب سے زیادہ اور گنے نے دوسری سب سے زیادہ پیداوار درج کی جس کے ساتھ رواں سال اہم فصلیں 4.65 فیصد زیادہ ہوئی ہیں۔

گندم، چاول، گنے اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ بالترتیب 8.1 فیصد، 13.6 فیصد، 22 فیصد اور 7.38 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاہم کپاس میں منفی 22.8 نمو دیکھنے میں آئی ہے۔

دیگر فصلوں بشمول سبزی، پھل اور سبز چارہ میں 1.41 فیصد اضافہ ہوا، مویشیوں کے شعبے میں 3.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جنگلات میں گزشتہ سال ے 2.29 فیصد کے مقابلے میں نمو 1.4 فیصد پر آگئی۔

صنعتی شعبہ
اس سال مجموعی طور پر صنعتی شعبے میں 3.57 فیصد کی مثبت ترقی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ گزشتہ سال 3.77 فیصد کی منفی نمو ہوئی تھی۔

تاہم کان کنی کے شعبے میں 6.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) سیکٹرمیں 9.29 فیصد کی غیر معمولی نمو دیکھی گئی، اس نمو میں اہم شراکت دار ٹیکسٹائل (5.9 فیصد) ، فوڈ مشروبات اور تمباکو (11.73 فیصد) ، پیٹرولیم مصنوعات (12.71 فیصد) ، ادویات (12.57 فیصد) ، کیمیکل (11.65 فیصد) ، غیر دھاتی معدنی مصنوعات (24.31 فیصد) آٹوموبائل (23.38فیصد) اور کھاد (5.69 فیصد) ہیں۔
بجلی اور گیس کے ذیلی شعبے میں 22.96 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی بنیادی وجہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے سبسڈی کم مختص کرنا، پیداوار میں کم اضافہ اور کھپت میں زیادہ اضافہ ہے۔

تعمیراتی سرگرمیوں میں 8.34 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ عام سرکاری اخراجات اور نجی شعبے کے تعمیراتی کام سے متعلق اخراجات میں اضافہ ہے۔

سروسز کا شعبہ کئی سالوں تک ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس سال عارضی تخمینے کے مطابق اس میں 4.43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ہول سیل اور ریٹیل تجارت کے شعبے میں 8.37 فیصد اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور مواصلات کے شعبے میں 0.61 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ فنانس اور انشورنس سیکٹر میں 7.84 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

پچھلا پڑھیں

دریائے گنگا میں تیرتی لاشیں، بھارت میں خوف و ہراس پھیل گیا

اگلا پڑھیں

سعودی فرماں روا شاہ سلمان فلسطین عوام اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے