پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ان کا ملک خطے کے تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے لیکن اس خیرسگالی کو پاکستان کی کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔
وہ یوم پاکستان کے موقع پر ہونے والی روایتی ملٹری پریڈ سے خطاب کر رہے تھے جس میں ترک فوجی دستوں نے بھی شرکت کی۔
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان ملٹری پریڈ میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آنے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔ وہ اس وقت اپنے گھر میں قرنطینہ میں ہیں۔
پاکستانی صدر نے کہا کہ اگر کسی ملک نے مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اس پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن کا خواہاں ہے کیونکہ یہ خطہ کئی دہائیوں سے تنازعات اور کشیدگی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اور علاقائی ترکی صرف اور صرف امن سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا کہ جارحانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر عارف علوی نے قوم کو یوم پاکستان کی خوشیوں کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو مذہبی اور ثقافتی آزادی حاصل ہے۔
صدر مملکت نے دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے افواج پاکستان کی قربانیاں لازوال ہیں۔
ملک میں آنے والی قدرتی آفات اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پاک فوج نے بہترین کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ افواج پاکستان بیابان صحرا سے برف پوش سیاچین تک اور آسمانوں کی وسعتوں سے سمندری حدود تک ملک کے دفاع میں مصروف ہیں۔ ملک کے اندر سے دہشت گردی ختم کرنے میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
