اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) نے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے حملے رکوانے کا مطالبہ کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق او آئی سی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ حملے رکوائے اوربے گناہ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے بین الاقوامی حفاظتی فورس مہیا کرے۔
اجلاس سے خطاب کے دوران ایران اور ترکی نے اسرائیل سے تعلقات بہتر بنانے والے مسلم ممالک کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اولو نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسئلہ فلسطین پر ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر ایک اور اتحاد قائم کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے صدر ایردوان نے کئی ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور میں بھی مختلف مملک کے ہم مناصب تک پہنچا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف قراردادیں پاس نہیں کرنی یا صرف بیانات نہیں دینے بلکہ عملی طور پر کچھ کر کے دیکھانا ہے۔ فلسطینیوں کے تحفظ کی ذمہ داری عالمی برادری پر ہے، اس ذمہ داری کا اہم حصہ بطور او آئی سی ہم پر عائد ہوتا ہے۔ ہمیں اس کے لیے عالمی پروٹیکشن میکانزم پر کام کرنا چاہیے
عالمی پروٹیکشن میکانزم کی ان کوششوں میں رضامند ممالک کی فوجی اور مالی شراکت کے ساتھ ایک بین الاقوامی تحفظ فورس تشکیل دینا بھی ہے جو عملی طور پر (فلسطینیوں کو) تحفظ فراہم کرے
خیال رہے کہ گزشتہ کئی روز سے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بمباری کی جارہی ہے، اسرائیلی حملوں میں اب تک 200 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
