ozIstanbul

ملکِ شام کے عوام کے مصائب ختم ہونے کی فی الحال کوئی امید نہیں، ترکش ریڈ کریسنٹ

ملکِ شام میں دس سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور عوام کے مصائب ختم ہونے کی فی الحال کوئی امید نہیں ہے۔ یہ بات ٹرکش ریڈ کریسنٹ کے سربراہ کریم کنیک نے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ان نامساعد اور مشکل حالات میں ترک امدادی ادارے اور ترک حکومت اپنے شامی بھائیوں کی جو ممکن مدد ہو سکتی ہے وہ کر رہی ہے۔

کریم کنیک نے کہا کہ اس وقت جو صورتحال چل رہی ہے اس میں دور دور تک روشنی نظر نہیں آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ماہ شام کی صورتحال پر ایک عالمی کانفرنس منعقد ہو گی۔ اگر عالمی برادری، سپر پاورز اور عالمی ادارے شام کے بحران کے حل میں سنجیدہ ہوں تو سب سے پہلے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ جنگ بندی کا معاہدہ کیا جائے۔ اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور غیر ممالک میں آباد شامی مہاجرین کی واپسی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مجھے ان تمام مثبت اقدامات کی عالمی برادری سے کوئی امید نہیں ہے۔ آج 15 مارچ کو شام میں خانہ جنگی کو دس سال پورے ہو چکے ہیں۔

کریم کنیک نے کہا کہ ان دس سالوں میں شام کے بحران کے مستقل حل کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ شام کے عوام کے مصائب اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے عالمی برادری سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی ہے اور یہ دنیا کے مستقبل کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔

پچھلا پڑھیں

افغانستان اپنے بھائی ترکی کی میزبانی میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے، افغان وزیر خارجہ

اگلا پڑھیں

ترکی: مزید 13 ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے