ترکیہ کے جنوبی سیاحتی شہر انطالیہ میں نائجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے جدید طبی علاج کے بعد صحتیابی حاصل کر لی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ جوڑا ترکیہ کے صحت کے شعبے کی ترقی سے متاثر ہو کر اپنے خرچ پر علاج کے لیے ترکیہ آیا تھا۔
62 سالہ عبدل حمید بابا سالیو، جن کا باڈی ماس انڈیکس 55 تھا اور انہیں انتہائی ہائی رسک مریض قرار دیا گیا تھا، اور ان کی 48 سالہ اہلیہ حدیقت بابا سالو، جو طویل عرصے سے دائمی درد کا شکار تھی ان کا انطالیہ کے ہسپتال میں علاج کرایا گیا
تفصیلی طبی معائنے کے بعد حدیقت بابا سالو کی کم تکلیف دہ طریقے سے گال بلیڈر (پتّہ) کی سرجری کی گئی، جبکہ ان کے شوہر کی پیچیدہ سرجری پروفیسر ڈاکٹر بُلنت آئیدنلی کی سربراہی میں ایک ماہر میڈیکل ٹیم نے انجام دی، جو ہسپتال کے آرگن ٹرانسپلانٹ سینٹر کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔
دونوں مریضوں کی سرجری ایک ہی دن میں کامیابی سے مکمل ہوئی، جس کے بعد وہ صحتیاب ہو کر اپنے وطن واپس روانہ ہو گئے۔
پروفیسر ڈاکٹر بُلنت آئیدنلی نے ایک بیان میں کہا کہ ترکیہ تیزی سے عالمی ہیلتھ ٹورازم کا اہم مرکز بن رہا ہے۔ ان کے مطابق جدید طبی سہولیات، ماہر ڈاکٹروں اور نسبتاً کم علاجی اخراجات کی وجہ سے ترکیہ دنیا بھر کے مریضوں کے لیے ایک پرکشش ملک بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں غیر ملکی مریض ترکیہ کا رخ کرتے ہیں، جبکہ انطالیہ اور استنبول طبی سیاحت کے نمایاں مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں
