ozIstanbul

سعودی عرب یمن جنگ میں شکست کھا چکا ہے، اب انسانی بحران کو ختم کرنے کا وقت ہے، عرب میڈیا

سعودی عرب نے یمن جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے لیکن دوسری طرف حوثی باغیوں نے جنگ بندی معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جنگ میں شکست تسلیم کر چکا ہے لیکن جب تک سعودی عرب یمن کا محاصرہ ختم نہیں کرتا اس وقت تک جنگ بندی یکطرفہ ہو گی۔ اس وقت یمن کے صنعا انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور حدیدہ کی بندرگاہ پر سعودی عرب کا قبضہ ہے۔

حوثی باغی اس وقت سعودی عرب پر جارحانہ حملے کر رہے ہیں اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے یا جنگ بندی کا معاہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حوثی باغی معارف شہر کا قبضہ حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں جہاں سعودی عرب نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

ایران نواز حوثی باغی جو اس وقت جارحانہ موڈ میں ہیں تاہم ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے یمن میں امن کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہوا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب تک سعودی محاصرہ ختم نہیں کرتے قیام امن کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔

سعودی عرب نے جنگ بندی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا جب یمن کے خلاف عرب اتحاد کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ دوسری طرف نئی امریکی حکومت نے بھی یمن میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یمن کی جنگ چھ سال پہلے شروع ہوئی تھی جب اُس وقت کے امریکی صدر باراک اوبامہ نے سعودی عرب کو یمن پر فضائی حملوں کا گرین سگنل دیا تھا۔ سعودی عرب نے 25 مارچ 2015 میں یمن میں بھرپور جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دیا اور اس بحران کے سفارتی حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے یمن جنگ کو ختم کرنے اور حوثی باغیوں کے پشت پناہ ایران سے نیوکلیئر معاملے پر بات چیت کا عندیہ دیا جس کے بعد سعودی عرب کو اس جنگ میں عالمی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ گیا ہے۔

یمن جنگ میں سعودی عرب کے سب سے بڑے اتحادی متحدہ عرب امارات نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے تاہم یمن کی ایک بندرگاہ پر بدستور یو اے ای کا قبضہ ہے جو وہ اپنی بحری تجارت کو محفوظ بنانے کے لئے فی الحال چھوڑنا نہیں چاہتا۔

سعودی عرب نے مصر اور پاکستان کو اس جنگ میں شامل کرنا چاہا تھا لیکن دونوں ملکوں نے اپنی فوج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ بالآخر سعودی عرب کو اکیلے ہی اس جنگ میں کودنا پڑا۔ سعودی عرب کے پاس بہتر فضائیہ نہ ہونے کے باعث اسے مغربی ممالک اور امریکہ کی کئی شرائط کو تسلیم کرنا پڑ گیا۔

حالیہ کچھ دنوں میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور ایئر پورٹس پر کئی ڈرون حملے کئے کیونکہ حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی کمزوری کا جلد ہی احساس ہو گیا تھا۔

خود سعودی عرب کے اندر بھی یمن جنگ پر عوام کی حمایت نہیں ملی۔ سعودی عوام اس جنگ کے خاتمے اور یمن کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اب یمن جنگ جلد یا بدیر ختم ہونے کو ہے لیکن یہاں دوسرا بڑا مسئلہ چھ سال کی خانہ جنگی کے باعث انسانی بحران کا ہے جو ایک سنگین المیے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

پچھلا پڑھیں

ترکی فرانس کے صدراتی انتحابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے؛ میکرون کا الزام

اگلا پڑھیں

ترکی، پاکستان، آذربائیجان کی دوستی کے نام نغمہ جاری، اسد قریشی کا ترکی اردو کو خصوصی انٹرویو

تبصرہ شامل کریں