ozIstanbul

19 مئی ترکی کی جنگ آزادی کا آغاز

19 مئی 1919ء ترکی کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے

آج کے دن ترکی کے بانی کمال اتا ترک کی یاد میں اور ساتھ ہی ساتھ یوم کھیل کے طور پر منایا جاتاہے

آج کے دن اتاترک کمال پاشا بحیرہ اسود کے شہر سامسون پہنچے اوروہاں سے انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ آزادی کی تحریک شروع کی جس کے چار سال بعد قوم کو جدید ترکی کی شکل میں آزاد اور خودمختار ریاست کا وجود ملا۔

سلطنت عثمانیہ کے ساتھ مدروس کی جنگ بندی پر دستخط کرنے کے کچھ عرصے کے بعد سے ہی اینٹنٹ فورسز نے قسطنطنیہ کے شہر پر 13 نومبر 1918 سے قبضہ کرلیا تھا۔اینٹنٹ فورسز کے اتحادیوں نے کچھ ہی مہینوں میں سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا تھا

غیر ملکی فو جیوں کے اس قبضے کو مصطفی کمال اتاترک نے ذلت آمیز قرار دیا۔

15 مئی 1919 کو اینٹنٹ فورسز کی اجازت سے یونانی افواج ازمیر پہنچ گئی۔ ان حالات میں اناطولیہ کے علاقے میں نسلی تناو کافی زیادہ ہو چکا تھا ، تشدد دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ رہا تھا

مگر اس بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر نے ترکی کے متعدد مزاحمتی گروپوں کو ایک متحد قوت بننے میں مدد کی ۔ قسطنطنیہ میں موجود سلطان قابض طاقتوں کے زیر اثر تھا ۔ انہیں کہا گیا کہ وہ مسلح افواج کے ایک رکن کو بد امنی پر قابو پانے کے لیے بھیجیں

مصطفی کمال کو یہ ذمہ داری دی گئی اور وہ ایس ایس بندرما کے مال برادر جہاز پر سامسون کے لیے قسطنطنیہ روانہ ہوئے۔

خراب موسم سے لڑتے تین دن کے مشکل سفر اور ایک خراب کمپس کے سہارے آخر کار اتاترک اپنی ٹیم کے ساتھ 19 مئی کو اپنی منزل پر پہنچے ۔

وہاں پہنچتے ساتھ ہی اتاترک نے فوج کو منتشر کرنے کے بجائے مزید باضابطہ مزاحمتی تحریک کو منظم کرنا شروع کردیا اور اس جاری جنگ کے نتیجے میں عثمانی سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی اور مصطفی کمال جنہیں اتاترک کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے انکی جدو جہد کے نتیجے میں ترکوں کو جدید ترکی کی شکل میں آزاد اور خودمختار ریاست کا وجود ملا۔

کمال اتاترک کی بھر پور کوششوں نے ترکی کو غیر طاقتوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچا لیا اور اسی بہادری اور آزادی کی جنگ کے آغاز کے دن کو یاد رکھنے کے لیے ہر سال 19 مئی کو اسکی یاد تازہ کی جانے لگی۔

پچھلا پڑھیں

سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو میں شمولیت کیلئے باقاعدہ درخواست جمع کروا دی

اگلا پڑھیں

پاکستان اور ترک وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات

تبصرہ شامل کریں