Turkiya-Logo-top

بھارت میں اسلحے کی بڑے پیمانے پر خریداری، پاک بھارت جنگ کی وجہ بن سکتی ہے، پاکستانی وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری کی توجہ بھارت کی جانب سے عسکری قوت میں بڑے پیمانے پر اضافے اور جدید جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال پاکستان کے ساتھ باہمی ڈیٹرنس کو سبوتاژ کر سکتی ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل پر منحصر ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور تصادم کو روکنا بھی ضروری ہے، بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ، جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور غیر مستحکم کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ممالک کے درمیان باہمی ڈیٹرنس کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بھی تمام ہمسایہ ممالک کی طرح امن چاہتا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال فروری میں ہم نے کنٹرول لائن پر2003 ء کی جنگ بندی کی مفاہمت کا اعادہ کیا۔

امید تھی کہ یہ نئی دہلی میں حکمت عملی پر نظرثانی کا باعث ہو گی۔ افسوس بی جے پی حکومت نے کشمیر میں ظالمانہ ہتھکنڈے تیز کر دیئے اور ان وحشیانہ کارروائیوں سے ماحول کو خراب کر رہی ہے۔

پاکستان کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز رابطے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے اور اس کے لئے اسے یہ اقدامات کرنا ہوں گے کہ5 اگست 2019 ء سے کئے گئے اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے، کشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے اقدامات کو روکے اور واپس لے۔

وزیراعظم نے بھارت کے غیر قانونی زیر غیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 ء سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں متعدد غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے۔

اس نے9 لاکھ قابض افواج کے ذریعے دہشت کی فضاء قائم کی ہوئی ہے، کشمیریوں کی سینئر قیادت کو پابند سلاسل رکھا ہوا ہے، میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، پرامن احتجاج کو پرتشدد طریقے سے دبایا گیا،13 ہزار نوجوان کشمیریوں کو اغوا کیا گیا ہے اور ان میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جعلی مقابلوں میں سینکڑوں بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اور پورے پورے پورے محلوں اور دیہات کو تباہ کرکے لوگوں کو اجتماعی سزائیں دی گئی ہیں۔

وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈوزیئر جاری کیا ہے۔ غیر قانونی کوششوں کے ذریعے جابرانہ ہتھکنڈوں کا مقصد مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور مسلمان اکثریت کو مسلمان اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

بھارتی اقدامات جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ قراردادوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ متنازعہ علاقے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اس کے لوگوں کو کرنا چاہئے۔

Read Previous

اسلاموفوبیا کے نقصانات کو مشترکہ طور پر روکنے کی ضرورت ہے، پاکستانی وزیراعظم عمران خان

Read Next

پاکستان کو جی ایس پی پلس حاصل کرنے کے لیے ہیومن راٹس کی پابندی کرنا لازم ہے

Leave a Reply