fbpx
ozIstanbul

تیونس میں مارشل لا نافذ

تحریر : مہتاب عزیز

‏تیونس میں مصر اور سوڈان کا اسکرپٹ دہرایا جا رہا ہے۔ ملک میں مارشل لا نافذ، وزیراعظم برطرف، پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی۔

اتوار کو تیونس کے درجن کے قریب شہروں میں حکومت کے اقتدار سے دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان پرتشدد ہنگامہ آرائی ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق انتہائی منظم لیکن مشتعل چند سو افراد مختلف شہروں میں نمودار ہوئے۔ ہر جگہ ان کا نشانہ تیونس کی اسلامی جماعت النہضہ کے دفاترتھے۔ جن پر انتہائی منظم انداز میں حملے کیے گئے۔ وہاں توڑ پھوڑ کی گئی اور کئی شہروں النہضہ کے علاقائی دفاتر کو نظر آتش کیا گیا۔ مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ کرونا کے دوران ملکی معیشت زوال کا شکار ہوئی ہے اس لیے حکومت برطرف ہو۔

مظاہروں کے دوران ہی تیونس کے صدر قیس سعید نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ سرکاری ٹی وی پر تیونس کے صدر نے دھمکی دی ہے کہ مارشل لا کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کے خلاف بے دردی سے طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ اور براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ اسلام پسند سیاسی جماعت النہضہ کو پارلیمان میں اکثریت حاصل ہے۔ اور وہ مخلوط حکومت میں شراکت دار ہے۔

تیونس آمریت کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ سن 2011 میں عرب بہاریہ کا آغاز تیونس ہی سے ہوا تھا اور اس وقت عوامی انقلاب کے باعث طویل عرصے سے برسر اقتدار آمر صدر زین العابدین بن علی کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ تیونس میں اسلامی جماعت النہضہ کی انتخابی کامیابی اوّل روز سے مغرب کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے۔

تیونس کی اسلامی جماعت ’’النہضہ‘‘ کے قائد اور ملکی پارلیمان کے اسپیکر راشد غنوشی نے صدر قیس سعید کی جانب سے مارشل لا کے نفاذ کو ”انقلاب اور ملکی آئین کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے۔”

’’النہضہ‘‘ کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں راشد غنوشی نے تیونس کی عوام سے اس ”بغاوت” کے خلاف باہر نکلنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آمریت کے خلاف عوام اُسی طرح اٹھے جس طرح 14 جنوری 2011 کو زین العابدین بن علی کی آمریت کے خلاف اٹھے تھے، تاکہ حالات معمول کے مطابق بحال ہو سکیں۔ اُنہوں نے کہا ہے ایک منظم گروہو تشدد اور تخریب کاری کی کارروائیوں کو انجام دے رہا ہے۔ کسی ایک بھی سیاسی جماعت نے ان مظاہروں کے لیے کال نہیں دی ہے۔”

مقامی میڈیا کے مطابق تیونس کی فوج نے پارلیمان سمیت ایک سرکاری عمارات کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی میں سادہ لباس میں ملبوس تربیت یافتہ اور منظم شرپسند مسلسل اسلامی جماعت ’’النہضہ‘‘ کے دفاتر اور قائدین کی ذاتی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

واضح رہے تیونس کے 46 سالہ وزیر اعظم ہشام مشیشی کا تعلق ایک سیکولر جماعت ’’ندا تیونس‘‘ سے ہے۔ انکی 28 رکنی کابینہ نے 67 کے مقابلے میں 134 ووٹ حاصل کر کے اقتدار میں آئی تھی۔ جسے پارلیمان میں اسلامی جماعت ’’النہضہ‘‘ کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن بظاہر حکومت مخالف مظاہروں میں منظم پُرتشدد مظاہرین کا نشانہ صرف اسلامی جماعت ’’النہضہ‘‘ ہے۔

پچھلا پڑھیں

افغانستان کے 15 صوبوں میں القاعدہ موجود ہے،اقوام متحدہ

اگلا پڑھیں

ترکی پاکستان آذربائیجان کے پارلیمانی اسپیکرز کا پہلا سہہ فریقی اجلاس باکو میں ہوگا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے