Turkiya-Logo-top

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود راجہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل مقرر

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود راجہ کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض میں قائم سیکریٹریٹ کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں تینوں ممالک نے معاہدے کے مستقل سیکریٹریٹ کے قیام اور پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہونے پر اتفاق کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود راجہ، ہلالِ امتیاز ملٹری، پاک فوج کی بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ 23 اپریل 2023 کو تقریباً 36 سالہ فوجی کیریئر مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے تھے۔

نعمان محمود راجہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل سلطان محمود راجہ کے صاحبزادے ہیں۔ ان کا تعلق الپیال راجپوت خاندان سے ہے جبکہ ان کا آبائی گاؤں ادھوال، چکری کے قریب ضلع راولپنڈی میں واقع ہے۔

والد کی شہادت کے بعد ان کا بچپن راولپنڈی میں گزرا۔ انہوں نے سینٹ میری اکیڈمی لالہ زار سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 11 ستمبر 1987 کو پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔

اپنے فوجی کیریئر کے دوران انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج مصر اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے اعلیٰ عسکری تعلیم حاصل کی۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ اہم کمانڈ اور اسٹاف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ کور کمانڈر پشاور بھی رہے جبکہ ان کی آخری تعیناتی صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے طور پر تھی۔

نومبر 2022 میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے وقت نعمان محمود راجہ پاک فوج کے سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز میں شامل تھے اور سینیارٹی فہرست میں ان کا نمبر چوتھا تھا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اب ریٹائرمنٹ کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد انہیں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ریاض میں قائم ہونے والے سیکریٹریٹ کی قیادت سونپی گئی ہے۔

یہ سیکریٹریٹ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور فوجی رابطہ کاری کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت بڑھانے اور کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو مشترکہ سلامتی سے متعلق معاملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

Read Previous

افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا مینڈیٹ بڑھانے کا مطالبہ

Read Next

افغان سرزمین سے ڈرون دراندازی، پاکستان نے جوابی کارروائی میں افغانستان کے ڈرون ذخیرہ کرنے والے 10 مقامات پر فضائی حملے کیے

Leave a Reply