fbpx
ozIstanbul

کمال سونال؛مزاح کی معراج

تحریر : طاہرے گونیش

آج تین جولائی 2021 ہے اور آج سے ٹھیک بیس سال قبل تین جولائی 2000، کو ایک نہ اڑ سکنے والی پرواز میں کمال سونال کی روح پرواز کر گئی تھی۔

وجہ؟ جہاز کا خوف اور خفقان قلب!

جس جہاز میں ساری زندگی نہ بیٹھے اس نے اجل کے بلاوے کے سامنے بیٹھے اور جہاز کے اڑنے سے قبل ان کی روح پرواز کر گئی ۔حرکت قلب بند ہو گئی۔ گویا ایک عظیم باب بند ہوگیا ترک مزاحیہ اداکاری کا !

کمال سونال کون تھے؟ ان کے رسمی تعارف سے قبل اپنے قلبی تعلق کا اظہار کرنا چاہوں گی۔
میں جب بہت ننھی سی بچی تھی تب کمال سونال فلموں میں جلوہ افروز ہوتے تھے اور آخری فلم ‘بلالیکا’ نامی فلم کی شوٹنگ کے دوران فوت ہو گئے ۔ ان کے آخری مکمل فلم تھی ‘پروپیگنڈہ’ ۔

جس میں ان کے بیٹے علی سونال نے بھی اداکاری کی تھی ان کے ہمراہ ۔

‘پروپیگنڈا’ ایک رلا دینے والی فلم تھی، جس میں ترکی اور شام کی سرحدی علاقے کے گرد خاردار تاروں کی باڑ لگائی جاتی ہے اور گاؤں تقسیم ہوجاتا ہے ۔لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑ جاتے ہیں۔ کمال سونال اس میں سرحدی پولیس کا کردار نبھاتے ہے اور ناظرین کو رلاتے ہیں۔
اس سے بہت پیچھے جائیں تو ساٹھ کی دہائی میں کمال سونال مزاحیہ افلام کی اداکاری میں اپنا سکہ جماتے ہیں اور مسلسل اپنا لوہا منواتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے مدمقابل ترک سینما اور تھیٹر کے بہت بڑے نام تھے اس وقت؛ جیسے کہ ، منیر اوزکل، خالد آکچاتیپے،طارق آکان،زکی آلاسیا،متین آکپنار،شینیر شین وغیرہ۔

وجہ تھی ان کی جاندار مزاحیہ اداکاری اور مزاح کی ٹائمنگ اور تاثرات پر ان کا غیر معمولی عبور۔
وہ جس بھی فلم میں کام کرتے اس کو امر کردیتے۔ انہوں نے ترکی کی گلی کوچوں میں بکی جانے والی عام گالیوں کو سند قبولیت بخشی اور انہیں زبان زد عام اور گلیمرائز کیا۔ ان کی مشہور گالیاں تھی؛ eşeoğlu eşek
(خر ابن خر)، (ابے)ulan اور اس پر دانت نکال کر ہنسنے کی ادا کاری اور سب سے مقبول مزاحیہ مکالمہ ان کو ہر فلم میں ادا کرنے کو دیا جاتا تھا وہ جاہلانہ طرز پر Ne (کیا؟ )کہنا ہوتا تھا ۔

کمال سونال کی اداکاری پر بات کرنا میرے محدود الفاظ کے بس کی بات ہی نہیں ہے ۔پھر بھی چند گوشوں پر بات کروں گی ۔
بات ہو رہی تھی میری ان سے قلبی لگاؤ کی، یوں تو آپ ترکی میں کسی سے بھی کمال سونال کا نام پوچھیں گے تو وہ پہلے مسکرائیں گے، پھر محبت سے اداکاری کا آغاز کریں گے ۔ مجھ سے پوچھیں گے تو مجھے ان کے مکالمے ازبر ہیں اور لوگوں کی طرح ۔ وہ مزاح کے عبقری تھے۔ان کو کسی ہدایت کاری کی حاجت نہ تھی۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تب ان کی مقبول ترین فلم دیکھی ! جس کے چار حصے آچکے ہیں۔ مجھے لگا کہ یہ وہ بندہ ہے جس کا مزاح دیکھتے سنتے میں کبھی بوریت کا شکار نہیں ہو سکتی ۔ ان کی مقبول ترین فلم تھی ‘hababam sınıfı’ یعنی( بدمعاشوں کی جماعت )یہ جماعت انتہائی شریر لڑکوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو متواتر چار سال پاس ہو کر نہیں دیتی اور اساتذہ کی ناک میں دم کیے رکھتی ہے۔

یہ ایک ناول سے ماخوذ ہے جو آپ کو ہر منظر میں ہنسائے گی۔ اس میں مندرجہ بالا تمام نام اپنی اداکاری کے جوہر کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر کمال سونال کے کردار کی کیا ہی بات ہے ۔مجھے یہی فلم دیکھ کر ان سے بے پناہ محبت ہوئی تھی ۔ اس فلم میں ان کا کردار
‘inek şaban’ یعنی (گائے شعبان) کا تھا جو بہت ھی سیدھا سادھا گاؤں کا لڑکا ہوتا ہے اور کالج میں پڑھنے آیا ہوتا ہے وہ دل پھینک ہوتا ہے اور اس کے دوست لڑکیوں کے نام سے اسے خط لکھتے ہیں .اور اسے ہر پل بے وقوف بنا کر خسارے میں رکھتے ہیں ۔ اس فلم میں بہت سے ترک بزرگ اداکار اور عدیلہ ناشت ،عائشن گرودا جیسی نابغہ روزگار ہستیوں نے کام کیا ہے۔ مگر کمال سونال کے شعبان کردار نے جو کمال اور جادو دکھایا اس نے لوگوں کو سینما کے سحر میں مبتلا کیا۔ کمال سونال کی بیشتر فلموں میں ان کا نام شعبان اسی وجہ سے رکھا جاتا رہا کیوں کہ ناظرین ان کو کسی اور نام کے ساتھ دیکھنا قبول ہی نہ کرتے تھے۔ کمال سونال کی دیگر افلام میں
yeşil vadi
(سبز وادی)،
tosun paşa
(توسون پاشا) اور
süt kardeşler
(دودھ شریک بھائی)
شامل ہیں مگر ان کو شہرت دوام hababam sınıfı سے ہی ملی .

کمال سونال ترکی کے شہر مالاطیا میں 10 نومبر 1944کو پیدا ہوئے تھے مگر چونکہ 10 نومبر کو مصطفی کمال اتاترک کا یوم وفات منایاجاتا ہے ۔تو انہوں نے کبھی اپنا یوم ولادت 10 نومبر کو نہیں منایا بلکہ 11 نومبر کو مناتے رہے۔ یہ ایک عظیم اداکار کی طرف سے ایک اور عظیم اقدام تھا۔

کبھی کبھار میرا دل کرتا ہے کہ میں ان کی افلام کو اردو میں ترجمہ کر کے کمال سونال سے اپنی عقیدت کا ہلکا سا ہلکا سا اظہار کروں۔ شاید کسی روز!
کمال سونال نے سینکڑوں سوگواران کے ساتھ اپنے تین حقیقی کے لواحقین چھوڑے ہیں؛ ان کی بیوی گل سونال بیٹی عزو سونال اور بیٹا علی سونال۔

3جولائی ہمیشہ افسردہ کرتا رہے گا ۔
خدا کمال۔سونال کی مغفرت کرے اور ان کی روح کو شاد رکھے، آمین!

پچھلا پڑھیں

پاکستان میں ٹک ٹاک پر عائد پابندی ختم کر دی گئی

اگلا پڑھیں

پاک فضائیہ کے سربراہ کا دور ہ ترکی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے