fbpx
ozIstanbul

مزاحمتی کیمرے

تحریر محمد حسان

وہ بچپن میں ہی کیمروں سے کھیلنے لگے تھے ۔۔ ویڈیوز بناتے اور آزادی کے خواب بنتے جوانی کی دہلیز تک پہنچے تو حریت اور مزاحمت کی توانا آواز بن چکے تھے ۔

سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے طور پر شیخ الجراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے خلاف ان کی ٹویٹس اور ویڈیوز وائرل ہونے لگی تھیں ۔ اسرائیلی فورسز نے منی ٰاور محمد کو گرفتا ر کیا مگر یہ گرفتاری خود جارح فورسز پر بھاری پڑی ۔ سینکڑوں انفلوئنسرز ان کی رہائی کیلیے میدان میں اتر آئے، علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے تھانے کا گھیراو کر لیا اور سوشل میڈیا پر اس قدر تیز کمپین چلی کہ رہائی پر ہی بات رکی۔

منی کے والد کہتے ہیں
"ہمارے نوجوان اپنے الفاظ اور کیمروں کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں اسرائیلی حکومت اور فوج نے ہمارے امن پسندلوگوں کے ساتھ جو دہشت گردی روا رکھی ہوئی ہے اسے ہمارے نوجوان پوری دنیا کو دکھاتے ہیں ۔ ان کے ہتھیار ان کے الفاظ اور کیمرے ہیں ان کے پاس کوئی اور ہتھیار نہیں ہیں ۔ ہمارے ہتھیار بس یہی ہیں ۔ اور ہم نے اپنی کہانی پوری دنیا تک پہنچا دی ہے” ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منیٰ نے اپنی گرفتاری کا احوال سنایا
"اسرائیلی فوجی صبح سویرے دروازے کو دھکے مارتے گھر کے اندر داخل ہوئے ، ان کے ہاتھ میں گرفتاری کے احکامات تھے ، انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اور میرا بھائی زیر تفتیش ہیں ، محمد گھر نہیں تھا انہوں نے مجھے پکڑا اور باندھ کر گاڑی میں بٹھا دیا

منی کے بعد اسکے بھائی محمد کو بھی گرفتار کیا گیا ۔۔۔ دونوں بہن بھائیوں کی گرفتاری کی خبر پر ٹویٹر ٹرینڈ بن گیا ، لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے تھانے کا گھیراو کر لیا ۔۔ چند گھنٹوں بعد وقفے وقفے سے دونوں کو رہا کر دیا گیا ۔ محمد کی رہائی پر اہل علاقہ جلوس کی صورت میں محمد کے گھر تک پہنچے اسے کاندھوں پر اٹھا ئے نعرے لگاتے فلسطینی مزاحمت کا عزم تازہ کرتے رہے ۔

تئیس سالہ منیٰ اور اسکا جڑواں بھائی محمد مزاحمتی مہم کے باعث عالمی شہرت حاصل کرچکے ہیں ۔ موبائل سے ویڈیوز بنانا سوشل میڈیا پر وائرل کردینا ان کی خاص مہارت بن چکی ہے ۔

کیمرے اور موبائل ویڈیوز کا یہی بڑھتا استعمال اسرائیلیوں کیلئے درد سر بنتا جا رہا ہے ۔

اس سے صرف ایک روز قبل الجزیرہ کی صحافی جیفارا البدیری کو رپورٹنگ کے دوران حراست میں لیا ۔ کیمرہ توڑ دیا اور بری طرح دھکےدیئے۔ بعدازاں اسے رہا کرتے ہوئے شیخ جراح میں داخلے پر پندرہ روز کی پابندی لگا دی ۔

اس سے قبل حماس سے گیارہ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے غزہ میں میڈیا ہاوسز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ۔ ایسو سی ایٹڈ پریس ، الجزیرہ کے دفاتر والی کثیرالمنزلہ عمارت کو تباہ کر دیا گیا ۔

اسرائیلی فورسز اب میڈیا کو بطور خاص نشانہ بنانے پر تلی ہوئی ہیں ۔ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اس کے ناک میں دم رکھے ہوئے ہیں ۔

پتھر اٹھانے والے فلسطینی اب دوسرے ہاتھ میں موبائل کے ہتھیار سے بھی مسلح ہو چکے ہیں ۔ وہ اسرائیلی جبر کے مناظر فلمبند کرتے ہیں اور دنیا کے ضمیر پر دستک دیتےہیں ۔ اسرئیلی فورسز کو ان ویڈیوز میں اپنا بھیانک چہرہ دکھائی دیتا ہے ، جبھی وہ ایسے ہر شیشے کو توڑ دینا چاہتے ہیں جہاں ان کا اصل مکروہ چہرہ دکھتا ہو۔

پچھلا پڑھیں

پاکستان میں پہلا ڈرائیو تھرو ویکسی نیشن سینٹر قائم

اگلا پڑھیں

کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں پاکستان کی دس یونیورسٹیز شامل

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے