ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ القدس کی حیثیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
یہ اہم بیان انہوں نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں دیا، جس میں خطے کی بدلتی صورتحال اور عالمی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
صدر رجب طیب ایردوان نے ایران کے حوالے سے متوازن پالیسی اپناتے ہوئے کہا کہ ترکیہ نہ تو ایران پر حملوں کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کو درست سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے امن اور استحکام پر مبنی سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی جارحانہ پالیسیاں پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
بات چیت میں شام کی صورتحال بھی زیر غور آئی، جہاں استحکام کو ترکیہ اور روس دونوں کے مشترکہ مفاد میں قرار دیا گیا۔
مزید برآں، روس۔یوکرین جنگ کے تناظر میں صدر رجب طیب ایردوان نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری امن کوششوں کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ بحیرہ اسود میں سویلین جہازوں پر حملوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ ایران سے متعلق کشیدگی کسی نئے محاذ کو جنم نہ دے۔
