fbpx
ozIstanbul

جامع مسجد، تقسیم سکوائر۔۔150 سالہ تاریخی جدوجہد

تحریر : عالم خان

تقسیم سکوائر میں “جامع مسجد” کا افتتاح صرف افتتاح نہیں بلکہ ایک سو پچاس (١٥٠) سالہ تاریخی جدوجہد کی جیت ہے ۔بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ خلافت عثمانیہ میں تقسیم سکوائر وہی علاقہ تھا جو عیسائی مشینری کا گھر، شراب اور فحاشی کا نہ صرف اڈہ تصور کیا جاتا تھا بلکہ خلافت عثمانیہ کے خلاف ہر قسم کی سازشوں کا مرکز بھی سمجھا جاتا تھا۔ اٹھارویں صدی میں روس اور خلافت عثمانیہ کی خون ریز جنگ کے بعد روس نے یہاں ایک کلیسا کی تعمیر کا آغاز کیا جو مقامی مسلمانوں کی مزاحمت سے نہ بن سکا جس کے بعد “سلطان عبد الحمید خان” نے یہاں ایک “جمعہ جامع مسجد” کے نام سے ایک مسجد بنانے کا ارادہ ظاہر کیا جو عالمی اقلیتی حقوق کے تحفظ کے نام سے مغرب کی مخالفت سے نہ بن سکا۔

خلافت عثمانیہ کا سقوط ہوا اور اس پورے علاقے میں صرف ایک چھوٹی سی مسجد تھی جو صرف اسلام اور مسلمانوں کے وجود کی گواہی دیتی تھی سن ١٩٥٢ء میں شہید آذان “عدنان مندریس” نے یہاں “سلطان عبد الحمید خان” کے خواب کو تعبیر دینے کا ارادہ کیا لیکن مغرب اور وقت کی سیکولرز قیادت کے سامنے بے بس ہو گیا اور کافی تگ ودو کے باوجود مسجد نہ بنا سکا سن ۱۹٦٠ء میں جب یہ علاقہ عسائیوں نے خالی کردیا تو “سیلمان دیمرال” نے مسلمانوں کی اکثریت کو مدنظر رکھ کر وہی پراجیکٹ شروع کرنا چاہا جس کا خواب “سلطان عبد الحمید” نے دیکھا تھا لیکن پھر وہی بیرونی اور اندرونی مخالفت شروع ہو گئی اور وہ بھی پیچھے ہٹ گیا۔

سن ١٤٥٣ء میں جس طرح “سلطان محمد الفاتح” نے استنبول کے کنارے کھڑے ہوکر استنبول کی فتح کا خواب دیکھا تھا اسی طرح سن ١٩٩٤ء میں رجب طیب ایردوان نے تقسیم سکوائر کے کنارے کھڑے ہوکر جامع مسجد بنانے کا وعدہ کیا تھا جو اس وقت ایک خیال ہی تصور کیا جاتا تھا سن ۲۰۱۳ء میں سیکولرز قوتوں نے درختوں کی کٹائی کا بہانہ بناکر ایک پرتشدد مظاہروں کا آغاز کیا اور تقسیم میدان میں “جامع مسجد” نا منظور کے نعرے بلند کئے گئیں۔

چوں کہ ایردوان حکمت اور تدریجی طریقہ انقلاب پر یقین رکھتے ہیں اس لیے اس وقت اس پراجیکٹ کے لیے صرف زمین ہموار کی اور سن ٢٠١٧ء میں باقاعدہ طور پر اس جامع مسجد کی بنیاد رکھی جو تقریبا چار سال بعد مکمل ہوئی۔

ایردوان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عملی کام کے ساتھ ساتھ تاریخ کو دہرانے اور مخالفین کو عملی پیغام دینے کا ہنر اچھی طرح جانتے ہیں جس کی گواہی آیا صوفیہ اور اس جامع مسجد کے افتتاح کی تاریخوں سے ملتی ہے کہ پندرہ جولائی کے ناکام انقلاب کے یاد میں آیا صوفیہ کی تبدیلی کا سرکاری پروانہ جاری کیا اور ۲۸ مئی ٢٠١٣ء کے پرتشدد مظاہروں کے یاد میں ۲۸ مئی ۲۰۲۱ء کو ہی مسجد کا افتتاح کیا جو ۲۹ مئی ١٤٥٣ء فتح استبول منانے سے پہلے اسلام پسندوں کے لیے تحفہ اور اغیاروں پر گہرا وار مانا جاتا ہے کہ اب وہ وقت نہ رہا کہ مغربی قوتوں کے خوف سے تقسیم کے میدان میں کوئی اللہ اکبر کی صدائیں نہیں بلند کرسکتا۔

البتہ ان لوگوں کا منہ بھی بند کیا جو یہ کہتے تھے کہ مساجد کم ہیں کہ تقسیم سکوائر میں مسجد پر اتنا خرچہ کیا گیا اور آج فتح استنبول پر ایک بڑے اور خوبصورت “چام لاجہ ٹاور” کا افتتاح بھی استنبول ہی میں کیا۔

پچھلا پڑھیں

کویت نے پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنے پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا

اگلا پڑھیں

باسکٹ بال:انادولو افیس نے ترکش یورو لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے