ایُّہا الناس،چلو کوہِ ندا کی جانب

تحریر: حماد یونس

اوائلِ زمانہ سے ہی انسان اپنی اور اپنی کائنات کی حقیقت جاننے پر تُلا ہے مگر کائنات اور ذات کی پرتیں ہیں کہ کھلتی ہیں مگر ایک کے بعد ایک پرت اور جہت سامنے آتی چلی جاتی ہے۔ ہزار ہا برس کی کھوج کا یہ سفر ہے کہ کسی طور ختم ہونے پر ہی نہیں آتا۔
اقبال نے کہا تھا نا،
؎
ہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا؟
منزل کبھی آئے گی نظر کیا؟

منزل یہاں کیا ہے؟ منزل یہ ہے کہ کائنات کا آخری عقدہ وا ہو جائے ، ہر گرہ کھل جائے اور سینۂ کائنات میں موجود آخری راز بھی آشکار ہو جائے ۔
مذاہب سے وابستگان افراد تو اس مزدوری سے قدرے دور ہیں مگر الحاد کی جانب مائل لوگوں کا یہی اہم مشغلہ ہے کہ کسی صورت کائنات کے آغاز اور انجام ، نیز وجہِ آغاز و انجام بھی جان سکیں اور ایسی وجہ معلوم کریں جو مذاہب اور عقائد سے بالکل ہٹ کر ہو۔ اب ایسا بھی نہیں کہ تمام مذاہب اس تحقیق کو غلط قرار دیتے ہوں ۔ دینِ فطرت ، یعنی اسلام تو اس تحقیق اور غور و خوض کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، اور ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو کند ذہن نہ ہوں ، جمود کا شکار نہ ہوں بلکہ کائنات کے بارے میں متجسس ہوں ۔
سورۃ آلِ عمران کی 190 آیت تو صرف ایک مثال ہے ، قرآن مجید میں بار ہا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تحسین فرمائی جو اٹھتے ، بیٹھتے ہر حالت میں کائنات کے بارے میں جاننے کے لیے جستجو کرتے ہیں۔
البتہ یہ امر اپنی جگہ واضح ہے کہ اسلام اور دیگر مذاہب بہر حال ایک نظریہ اور راستہ ضرور بتاتے ہیں ، جس کو بنیاد اور مرکزِ پرکار مانے بغیر ان سے ہم آہنگ نہیں ہوا جا سکتا۔
مذہب کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ یہ یقین کی نعمت سے سرفراز کرتا ہے۔ اس کے مقابل الحاد صرف گمان اور ممکنات کے درمیان بھٹکتا چلا جاتا ہے۔
مثلاً الہامی مذاہب تخلیقِ کائنات کے بارے میں کم و بیش ملتے جلتے عقائد کے حامل ہیں۔ یہ عقائد ہر آن مستقل ہیں اور زمین و آسمان کے زیر و زبر ہو جانے کی صورت میں بھی ان عقائد میں ذرہ برابر فرق نہیں آنے والا۔ جبکہ دوسری جانب الحاد صبح و شام نئے سے نئے نظریات اور مبینہ ارتقاء کے مراحل سے گزرتا چلا جاتا ہے۔
شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ الحاد کا نکتہِ ارتکاز، تجسس سے کہیں بڑھ کر مذہب اور ایمان کا انکار ہے ۔
نشاۃ ثانیہ کے آغاز ہی سے اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں متفرق نظریات قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہی نظریات کو آگے بڑھانے کی جستجو میں بے شمار جتن کیے گئے ہیں ۔ پچھلی صدی کے اوائل ہی سے، اس زمین کی حدود سے آگے بڑھنے کی جستجو سائنس دانوں کو مبتلا تھی ۔پچاس کی دہائی میں ان کوششوں نے ثمر بار ہونا شروع کیا۔ انسان نے چاند پر قدم رکھا تو پھر یہ کرۂ ہوائی ذات کی پنہائیوں کو کم پڑنے لگی۔
اسی سلسلے میں ، 1958 میں ناسا نامی ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے مقاصد میں کائنات کے اسرار و رموز کو آشکار کرنا سر فہرست تھا۔
اس سفر میں زادِ سفر بہت سے تھے۔ جدید سے جدید ترین ٹیلی اسکوپس ، مشینری ، افرادی قوت ، مصنوعی سیارے ، ان سب نے آج ناسا اور اس جیسے اداروں کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ گزشتہ روز ، بارہ جولائی دو ہزار بائیس ، کو دنیا کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ، مجوزہ سائنسی دنیا میں ایک سنگِ میل عبور کیا۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ ، کائنات میں دور دراز ، ان مقامات تک دیکھنے کی قابل ہے جو اب تک انسان اور دور بین کی آنکھ سے اوجھل تھے۔ نظامِ شمسی سے باہر کہکشاں اور کہکشاؤں کے اس پار ، دور دراز کی ، لاکھوں کروڑوں اربوں نوری سالوں کی دوری پہ موجود ستاروں اور سیاروں کو دیکھنے کی صلاحیت مبینہ طور پر اس ٹیلی اسکوپ میں موجود ہے ۔ یعنی جہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے میں اربوں نوری سال لگیں گے ، وہاں تک۔ واضح رہے کہ روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل تک سفر طے کرتی ہے ۔ جہاں تک روشنی پہنچنے میں اتنا وقت لگائے ، اس فاصلے کو انسان کس طرح اور کب تک عبور کرے گا؟؟؟
سائنسدانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ جو مناظر اس جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے محفوظ کیے ہیں ، یہ لگ بھگ ساڑھے تیرہ ارب سال پرانے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ کائنات کی انتہائی بعید کی کہکشاؤں کی یہ روشنی جو ہم تک اب پہنچی ، اسے وہاں سے سفر کیے ہوئے کم و بیش اتنا ہی وقت گزر چکا ہو گا۔
جبکہ سائنس کا یہ ماننا ہے کہ کائنات کی پیدائش بھی ساڑھے تیرہ ارب سے کچھ زیادہ برس پہلے وقوع پزیر ہوئی تھی۔ اس اعتبار سے ، یہ تصاویر ان کہکشاؤں کے بالکل ابتدائی مناظر کو واضح کرتی ہیں۔
سائنس دان اس بات پر مصر ہیں کہ ذرا اور لمبی چھلانگ لگائی جائے تو مزید چند کروڑ برس پہلے کا منظر دیکھ کر اس بگ بینگ کا نظارہ بھی کیا جا سکتا ہے ، جس کو سائنسی حلقے کائنات کے معرضِ وجود میں آنے کی وجہ قرار دیتے ہیں ۔
اسی بگ بینگ ، یعنی زور دار دھماکے کی جستجو اور دھن میں سائنس دان کئی دہائیوں سے سرشار ہیں۔
دوسری جانب ، سائنس دان ، یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس کھرب ہا کہکشاؤں ، ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں انسان اور زمینی جاندار اب تک بالکل اکیلے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کائنات کے کسی دوسرے کنارے پر کہیں اور بھی زندگی کے آثار مل جائیں ۔
یہ زندگی کے آثار، جن پر اب تک مشرق و مغرب کی فلم انڈسٹریز ہزاروں فلمیں اور ڈرامے تخلیق کر چکی ہیں ۔ انہیں ایلینز اور خلائی مخلوقات کے عنوان سے پکارا جاتا ہے ۔
بہر حال ، جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے محفوظ کردہ یہ مناظر انسانی تاریخ میں واقعتاً ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف اسپیس ٹائم کی تھیوری کو تقویت  ملی ہے بلکہ وقت میں سفر کی امید بھی بڑھ گئی ہے ۔
مگر بحیثیتِ مسلمان ، اور کائنات پر بلا تعصب غور کرنے والے ایک فرد کی حیثیت سے ، میرا یہ ماننا ہے کہ انسان کائنات میں جس قدر دور بھی دیکھے ، جتنا بھی جتن کرے ، اسے ہر ہر قدم پر خالقِ کائنات، واحد و لا شریک اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیاں ہی ملیں گی کہ مشرق و مغرب سب کچھ اسی کے ہی تو ہیں۔
یوں بھی اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور مشرق و مغرب سب ا للہ ہی کی ہیں ۔ لہٰذا جس طرف بھی تم رُخ کروگے اسی طرف اللہ کا رخ ہے۔ بیشک اللہ بہت وسعت والا ، بڑا علم رکھنے والا ہے
(سورۃ البقرۃ : آیت 115)

اس کائنات میں ، انسان ایمان اور مذہب سے جس قدر دور بھی بھاگے ، بالآخر اسے لوٹ کر واپس اللّٰہ کی طرف ہی آنا ہے۔ ان کائنات میں تاروں کی گزرگاہیں ڈھونڈنے والے کو بالآخر اپنی زندگی کی شبِ تاریک کا سامنا کرنا ہے۔
مصطفیٰ زیدی نے کہا تھا

دِل وہ سنسان جزیرہ کہ بجھا رہتا ہے
لیکن اس بند جزیرے کے ہر اک گوشے میں
ذات کا بابِ طلسمات کھلا رہتا ہے
اپنی ہی ذات میں پستی کے کھنڈر ملتے ہیں
اپنی ہی ذات میں اک کوہِ ندا رہتا ہے
صرف اِس کوہ کے دامن میں مَیَسّر ہے نجات
آدمی ورنہ عناصر میں گِھرا رہتا ہے
اور پھر ان سے بھی گھبرا کے اٹھاتا ہے نظر
اپنے مذہب کی طرف،اپنے خدا کی جانب
ایُّہاالنّاس ، چلو کوہِ ندا کی جانب

Read Previous

فلسطینی عوام علیحدہ ریاست کا حق رکھتے ہیں،امریکی صدر

Read Next

والی بال ویمنز نیشنر لیگ میں تھائی لینڈ کی ترکیہ کے ہاتھوں شکست

Leave a Reply