تحریر : اسلم بھٹی
استنبول ، جس کا قدیم نام ” قسطنطنیہ ” تھا ، اسے سلطان محمد فاتح نے 29 مئی 1453 کو فتح کیا۔ ہر سال ترکیہ سمیت دنیا بھر میں 29 مئی کو فتح استنبول کی برسی بنائی جاتی ہے اور مختلف پروگرامز اور تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔
قسطنطنیہ (استنبول) کی فتح کے بارے میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور ارشاد ہےکہ آپ نے فرمایا ؛
” قسطنطنیہ یقیناً ایک دن فتح ہوگا۔ اسے فتح کرنے والا سپہ سالار کتنا شاندار ہے اور اس کی فوج کتنی شاندار ہے”.
اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے قسطنطنیہ کی فتح کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تاریخ اسلام میں بہت سے صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین سمیت بہت سے سپہ سالاروں اور فاتحین نے اس شہر کو فتح کرنے کی کوشش کی۔
تا ہم یہ سعادت سلطان محمد فاتح اور اس کی افواج کے حصے میں آئی ۔ سلطان محمد فاتح کی عمر اس وقت 21 سال تھی یعنی وہ نوجوان تھے۔
سلطان محمد فاتح اور اس کی فوجوں نے 6 اپریل 1453 کو شہر کا محاصرہ کیا جو 29 مئی 1453 یعنی شہر کی فتح تک جاری رہا. یوں 53 دن میں اس شہر بے مثال کو فتح کر لیا گیا اور 1500 سالوں پر محیط رومی سلطنت کا خاتمہ ہو کر اسلام کے نئے دور کا آغاز ہوا۔
استنبول چونکہ ایک جزیرہ نما شہر تھا جو بحرہ مرمرہ اور خلیج باسفورس سے گھرا ہوا تھا لہٰذا سلطان فاتح نے اس طرح پلان بنایا کہ راتوں رات کشتیاں خلیج تک لے آئیں اور اوربان کی بنائی توپوں سے بھاری گولہ باری کر کے شہر کی مضبوط فصیلوں اور دیواروں کو گرا دیا اور اس میں فاتحانہ داخل ہو گئے۔
سلطان محمد فاتح کی فوجوں کی تعداد 80 ہزار سے دو لاکھ بتائی جاتی ہے۔ شہر میں داخل ہو کر سلطان محمد فاتح نے یورپ کے سب سے بڑے کلیسا یعنی” آیا صوفیہ” کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔ عام معافی کا اعلان کیا اور شہر میں امن و امان قائم کر کے اسے ازسر نو تعمیر کرنا شروع کر دیا۔
استنبول کی فتح نے نہ صرف سلطنت عثمانیہ کو بام عروج پر پہنچا دیا بلکہ اس سے اسلام کی اشاعت اور تبلیغ و ترویج بھی ہوئی اور دشمن پر دھاک بیٹھ گئی۔ دنیا میں مسلمانوں کو ان پر برتری حاصل ہوگی۔
استنبول کی فتح سے سلطنت عثمانیہ کا حکومتی مرکز یعنی دارالحکومت ” ادرنہ ” سے استنبول منتقل ہو گیا۔ تمام اہم بحری تجارتی راستوں اور شاہرہ ریشم پر مسلمانوں کا کنٹرول ہو گیا۔ شہر کی فتح سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ۔ بحرہ روم اور بحر اسود پر عثمانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ رومی و بازنطینی سلطنتوں کا شیرازہ بکھر گیا۔ نشاط اسلام ، نشاط ثانیہ اور اصلاحات کے نئے دور کا آغاز ہوا۔
شہر میں مساجد ، مدرسے اور مکتب قائم کیے گئے۔ استنبول کو سماجی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت دلانے کے لیے تگ و دو کی گئی۔ شفا خانے ، مسافر خانے ، کتب خانے، کارواں سرائے اور اسکول تعمیر کیے گئے۔ شہر کی تاریخ اور یادگاروں کو محفوظ بنایا گیا۔
الغرض آج اگر دنیا بھر سے کروڑوں سیاح اس شہر بے مثال کو دیکھنے آتے ہیں اور اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تو اس کا سارا کریڈٹ سلطان محمد فاتح اور ان کی افواج کو جاتا ہے جنہوں نے فتح کر کے اسے شہر بے مثال بنا دیا ۔
اے شہر بے مثال ، استنبول
تاریخ تیری لازوال ، استنبول
دنیا میں تو جنت کا ٹکڑا
خوبصورت تو کمال ، استنبول
دیکھ لے جو ایک بار تجھے
دیکھنا چاھے ھر سال ، استنبول
ذکر کیا تیرا پیغمبر نے
دی تیری مثال ، استنبول
دھوم تیری مشرق و مغرب میں
اے شہر جمال ، استنبول
