Turkiya-Logo-top

استنبول کے طلبہ نے روبوٹکس مقابلوں میں عالمی سطح پر 4 اعزاز جیت لیے

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک ہائی اسکول کے طلبہ نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی مقابلوں میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر چار اعزاز اپنے نام کر لیے۔ بہچے لیولر جولائی 15 شہدا ٹیکنالوجی، سائنس اور سماجی علوم اناطولین امام خطیب ہائی اسکول کی ٹیم نے کینیڈا میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

اسکول کی روبوٹکس اور ٹیکنالوجی ٹیم ’’کریسنٹ ٹیک‘‘ نے کینیڈا کے شہر مارکھم میں 17 سے 21 جولائی تک ہونے والے FIRA RoboWorld Cup اور EnjoyAI Americas Open Robotics Competition میں حصہ لیا۔ ٹیم نے ڈرون کے ’’اسکائی لائن ایڈونچرز‘‘ مقابلے میں عالمی چیمپئن شپ جیتی، جبکہ FIRA RoboWorld Cup میں دو کیٹیگریز میں دوسری اور ایک میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ڈرون مقابلے میں طلبہ کو مخصوص راستہ مکمل کرنے کے ساتھ QR کوڈز پڑھنے تھے اور یہ کام کم سے کم وقت میں کرنا تھا۔ ٹیم کے کپتان الا المولائکی کے مطابق طلبہ نے مقابلے کے تینوں مراحل سب سے کم وقت میں مکمل کیے، جس کے نتیجے میں انہیں عالمی چیمپئن قرار دیا گیا۔

طلبہ کی ایک اور نمایاں کامیابی نوریٹن حبیب اوغلو کے تیار کردہ منصوبے کی صورت میں سامنے آئی۔ اس منصوبے میں ریڈیو لہروں کی مدد سے عمارت کے اندر کسی شخص یا چیز کی انتہائی درست جگہ معلوم کرنے کی ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے، جو رکاوٹوں کے باوجود سینٹی میٹر کی سطح تک درست پوزیشن بتا سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں ورچوئل رئیلٹی، صنعتی روبوٹکس اور موشن کیپچر جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹیم کے مشیر جینکائے اوزین کے مطابق اسکول میں طلبہ کو ابتدائی تعلیمی مرحلے ہی سے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ صرف کتابی علم تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے علم کو عملی منصوبوں میں بھی استعمال کرسکیں۔ اسکول میں اس وقت روبوٹکس کی پانچ بین الاقوامی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

دلچسپ بات یہ ہے کہ امام خطیب اسکول ترکیہ میں ایسے سرکاری تعلیمی ادارے ہیں جہاں عام تعلیمی نصاب کے ساتھ اسلامیات بھی پڑھائی جاتی ہے۔ تاہم ان میں سے کئی اسکول اب سائنس، ٹیکنالوجی، سماجی علوم اور غیر ملکی زبانوں سمیت مختلف جدید شعبوں میں بھی خصوصی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ استنبول کے ان طلبہ کی عالمی روبوٹکس مقابلوں میں کامیابی اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور عملی تعلیم پر توجہ نوجوانوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دے سکتی ہے۔

Read Previous

صلا ترک اوغلو کی کیرم بورسین کے ساتھ گرینڈ میسن استنبول میں شمولیت کے لیے بات چیت جاری

Read Next

مکہ دفاعی اتحاد میں مصر کی شمولیت کا امکان، حاقان فیدان کا اہم بیان

Leave a Reply