8 واں عالمی حلال سربراہی اجلاس اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کی 9 ویں حلال ایکسپو استنبول میں زور وشور سے جاری ہے۔
او آئی سی کے دوران حکام حلال مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی منڈی کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
40 ممالک کے تقریباً 500 نمائش کنندگان چار روزہ ایکسپو میں اپنی مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔
او آئی سی ایکسپو میں دنیا بھر سے تقریباً 40 ہزار سے زائد زائرین کی شمولیت کی توقع کی جا رہی ہے۔
حلال مارکیٹ کے لیے تعاون کے سب سے اہم پلیٹ فارم سمجھے جانے والے دو بڑے اجتماعات کا مقصد ترکیہ کو ایک پھلتے پھولتے شعبے کا مرکز بنانا ہے جس کی مالیت پہلے ہی $7 ٹریلین سے زیادہ ہے۔
افتتاحی تقریب میں پڑھے گئے ایک پیغام میں صدر رجب طیب ایردوان نے حلال مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت کو سراہا۔
انکا کہنا تھا کہ یہ ایکسپو ناصرف مسلمانوں بلکہ بیشتر لوگوں کے لیے فائدے مند ثابت ہوگی۔

عالمی حلال سمٹ کونسل کے رکن ایمرے ایتے نے مسلم دنیا میں اقتصادی ترقی اور یکجہتی کی گاڑی کے طور پر اس شعبے کی اہمیت کی نشاندہی کی۔
انکا کہنا تھا کہ ہم ناانصافی اور جبر کے خلاف حقوق اور برابری کے لیے مل کر کام کرنے، معاشی تناظر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے، 4 ٹریلین ڈالر کے حلال سیکٹر کو بڑھانے، اور بیداری بڑھانے کے لیے مسلمانوں کی صلاحیت اور یکجہتی کو بڑھانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔
اسٹینڈرڈز اینڈ میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ فار اسلامک کنٹریز (SMIIC) کے جنرل سیکرٹری احسان اووت نے حلال مارکیٹ میں معیار پر سخت توجہ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ SMIIC کی 17 تکنیکی ٹیمیں صنعت کی ضروریات کے مطابق مقامی اور علاقائی معیارات کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیار کو برقرار رکھنا اور اسے مزید بہتر کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔
