Turkiya-Logo-top

اسرائیل میں بڑا قانونی طوفان،عدالت میں بن گویر کے مستقبل کا فیصلہ قریب

اسرائیل کی اعلیٰ عدالت نے بدھ کے روز قومی سلامتی کے انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت شروع کر دی ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پولیس کے معاملات میں غیر قانونی مداخلت کی اور ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر عدالت نے سماعت عوام کے بغیر کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم کارروائی کو براہِ راست نشر کیا گیا تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

سماعت سے قبل بن گویر کے درجنوں حامی عدالت کے باہر جمع ہوئے اور ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر عدالت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر بن گویر نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات دراصل ان کی پالیسیوں کو روکنے کی کوشش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں ووٹرز نے انہیں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے منتخب کیا ہے اور عدالت کو خبردار کیا کہ وہ ملک کو آئینی بحران یا تقسیم کی طرف نہ دھکیلے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کمزور نہیں ہوگی بلکہ ان کے بقول "قانونی آمریت” ختم ہو گی۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر انصاف یاریو لیون نے واضح کیا ہے کہ اگر عدالت بن گویر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتی ہے تو حکومت اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گی۔ انہوں نے سماعت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بن گویر کو عہدے سے برطرف کرنا چاہیے کیونکہ انہوں نے متعدد بار پولیس کے عملی امور میں غیر قانونی مداخلت کی، پولیس تقرریوں کو سیاسی رنگ دیا اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کیس اسرائیل میں عدلیہ اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک بڑی مثال بن سکتا ہے، اور اگر عدالت اور حکومت کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرتا ہے تو ملک کو ایک ممکنہ آئینی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

Read Previous

واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران نیک نیتی کا مظاہرہ نہیں کیا، ایرانی صدر

Read Next

صدر رجب طیب ایردوان کا بڑا اعلان، 2028 تک لاکھوں گھروں کو ملکی گیس فراہم کرنے کا ہدف

Leave a Reply