Turkiya-Logo-top

اسرائیل کا تہران میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

اسرائیل ڈیفنس فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کیے گئے حملوں کے دوران تہران میں واقع ایک ایسے کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک تھا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کمپاؤنڈ ایرانی حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو جدید بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں اس مقام کو دھماکہ خیز مواد کی تیاری اور خفیہ جوہری تجربات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں سے اس پروگرام کو نمایاں نقصان پہنچا تھا، تاہم بعد ازاں ایران نے اس کمپلیکس کی بحالی کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

دوسری جانب ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی اور سائنسی تحقیق جیسے پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق ایران ان ممالک میں شامل ہے جو جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے باوجود یورینیم کو اس سطح تک افزودہ کر چکا ہے جو ہتھیار سازی کے قریب سمجھی جاتی ہے، جس کے باعث اس کے پروگرام پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

Read Previous

ترکیہ کا شمالی قبرص میں دفاعی اقدامات کا دفاع، ایف-16 طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی کو خطے کے امن کے لیے ضروری قرار

Read Next

ترکیہ کے حفاظتی اقدامات نیٹو کا امتحان بن سکتے ہیں: ماہرین

Leave a Reply