اسلام آباد میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں اسلام آباد اعلامیہ برائے عالمی امن و ہم آہنگی جاری کر دیا گیا ہے، جس پر مختلف مذاہب کے رہنماؤں، علما، سیاسی و سماجی شخصیات نے دستخط کیے۔
انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس میں پاکستان سمیت مختلف ممالک سے علما، سکالرز، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اعلامیے میں مذہبی و نسلی امتیاز، نفرت اور تشدد کے خاتمے، پرامن بقائے باہمی، مذاکرات اور بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ عدنان قادری نے اعلامیے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر موجود منفی تاثر ختم کرنے میں مذہبی رہنماؤں کا کردار اہم ہے۔

سابق وفاقی وزیر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو تنازعات کے حل اور پرامن بقائے باہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نفرت اور تشدد کے خاتمے کے لیے مکالمے، برداشت، ہمدردی اور مذاکرات کو فروغ دیا جائے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے سربراہ محمد اسرار مدنی نے کہا کہ اسلام آباد اعلامیہ کو پاکستان کے امن اور ہم آہنگی کے پیغام کے طور پر دنیا بھر میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اعلامیے میں اکیسویں صدی میں انسانوں کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے حل پر توجہ دی گئی ہے۔
