ترکی کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر علی ارباش ایک ہفتے کے دورہ پاکستان پر گذشتہ ہفتے لاہور پہنچے۔ ایئر پورٹ پر پنجاب کے وزیر مذہبی امور اور بادشاہی مسجد کے خطیب و امام عبدالخبیر آزاد نے استقبال کیا۔
لاہور میں ڈاکٹر علی ارباش نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ملاقات کی۔ انہوں نے عظیم صوفی بزرگ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ بعد ازاں معزز مہمان نے بادشاہی مسجد کا دورہ کیا اور وہاں نمازِ ظہر کی امامت کروائی۔
ڈاکٹر علی ارباش نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں "رومی اور اقبال” کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ رومی اور اقبال کا نظریہ ایک ہی ہے اور وہ نظریہ ہے مخلوق کی خدمت۔ اسلام کا اصلی چہرہ اور اسکی درست تعلیمات کو دنیا میں متعارف کروانا اصل چیلنج ہے۔ اسلام کو مذہبی اور لبرلز دونوں کی انتہا ؤں نے بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ ترکی کے امام خطیب سکولوں کا نظام اسکے اتحاد کا ضامن ہے۔ انہوں نے پاکستان کیلئے جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اپنے برادر ملک کے مسائل پر گہری نظر رکھتا ہے اور انکے حل کیلئے فکر مند رہتا ہے۔ ترکی کیلئے مثبت جذبات اور ہمیشہ بے لوث حمایت کرنے پر پاکستانی عوام اور حکومت کے شکر گزار ہیں۔
ترک وزیر مذہبی امور نے لاہور میں منہاج یونیورسٹی کا دورہ کیا اور یہاں ایک کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہا ہماری ذمہ داری ہے کہ ممبرو محراب، علماء اور دینی مراکز کے ذریعے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں۔ اسلامو فوبیا کے خلاف مربوط کوششوں کی راہ ہموار ہو گی اورباہمی تعاون سے خطہ کے عوام اور عالم اسلام کو یکساں فائدہ ہو گا۔ بین المذاہب ہم آہنگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی سکھوں کے دیرینہ مطالبے اور مذہبی ہمدردی کی بنیاد پر کرتارپور راہداری کا منصوبہ مکمل کیا ۔
ڈاکٹر علی ارباش نے کہا پاکستان ترکی کے امام خطیب سکولوں کے نظام اور حج تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے جدید دور کے دینی مسائل کے حل ، حج انتظامات ، درست معلومات کی ترویج کیلئے جوائنٹ سوشل میڈیا مہم کیلئے مشترکہ تحقیقی گروپ اور ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز دی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحفظ ناموسِ رسالتﷺ، اسلامو فوبیا، مسئلہ فلسطین و کشمیر پر موثر آواز کیلئے ملکر کام کرنا ہو گا۔ کسی بھی معاشرے میں امن اور خوشی صرف دین میں دیے گئے اصولوں پر عمل کرنے سے آتی ہے۔ دینی اصول و ضوابط کو چھوڑنے سے صرف انتشار اور افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ درست دینی معلومات کی ترویج پر ملکر کام کرنے سے دنیا کو مثبت پیغام ملے گا۔
انہوں نے کہا پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ڈاکٹر علی ارباز نے کہا کہ عالم اسلام کو اتحاد وحدت کی اشد ضرورت ہے






