ozIstanbul

کیا او آئی سی ایک مؤثر بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے؟

تحریر:عاطف خالد بٹ

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کی اڑتالیسویں کانفرنس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 22 اور 23 مارچ کو منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کو ہماری حکومت نے غیر معمولی اہمیت دی اور اس کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں اشتہارات دینے کے لیے علاوہ موبائل فونز پر رنگ ٹونز کی بجائے اس کانفرنس کے بارے میں پیغام نشر کیا گیا۔ کانفرنس میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کے علاوہ مسلم ممالک کے چالیس وزرائے خارجہ ، دو نائب وزرائے خارجہ اور ڈھائی سو نمائندگان نے شرکت کی۔ پاکستان میں اجلاس سے متعلق بہت سی متضاد باتیں کی گئیں۔ کسی نے اس اجلاس کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اسے 1974ء میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے ہم پلہ قرار دیا تو کسی کا کہنا تھا کہ اس اجلاس کا مقصد وزیراعظم عمران خان کے خلاف حزبِ اختلاف کی طرف سے قومی اسمبلی میں لائی گئی تحریکِ عدم اتحاد کے غبارے سے ہوا نکالنا ہے۔ ان باتوں سے ہٹ کر ہمیں اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا او آئی سی ایک مؤثر بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے؟ اور اس تنظیم نے اپنی تاسیس سے لے کر اب تک ایسے کون سے اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج کی بنا پر ہم اسے ایک اہم یا غیر اہم ادارہ قرار دے سکتے ہیں؟

ستاون اسلامی ممالک کی نمائندگی کرنے والی یہ بین الاقوامی تنظیم نصف صدی سے کچھ زائد عرصہ پہلے 25 ستمبر 1969 ء کو قائم کی گئی۔ اصولی طور پر تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم مسلم دنیا کی مشترکہ آواز کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری مسلم دنیا کے مفادات کا تحفظ اور بین الاقوامی امن و ہم آہنگی کا فروغ ہے۔ اسی بنیاد پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں اس تنظیم کے مستقل وفود بھی موجود ہیں۔ یہاں یہ وضاحت غیر ضروری نہ ہوگی کہ او آئی سی ایسا واحد ادارہ نہیں جس کے بارے میں یہ سب کچھ کہا جاتا ہے، بین الاقوامی حیثیت رکھنے والے ہر ادارے سے متعلق الفاظ کے ذرا سے ہیر پھیر کے ساتھ یہی سب کہا جاتا ہے۔ ان اداروں اور تنظیموں کو چلانے کے لیے ان کے تمام رکن ممالک ان کا مالی بوجھ اٹھاتے ہیں تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار کی وجہ سے ان کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ او آئی سی اور دیگر تمام بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں عملی طور پر ان باتوں پر کس حد تک پورا اترتی ہیں جو ان کے چارٹرز میں لکھی ہوتی ہیں۔

او آئی سی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مسلم دنیا کے مفادات کے تحفظ کی بات کی جائے تو اس سلسلے میں سب سے پہلے جن علاقوں کا نام ذہن میں آتا ہے ان میں سے ایک مقبوضہ جموں و کشمیر ہے اور دوسرافلسطین ۔ یقینا اور بھی کئی مسلم علاقے بہت اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان دونوں علاقوں کا معاملہ اس لیے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں گزشتہ پون صدی سے مظلوم اور نہتے عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ جموں و کشمیر پر بھارت نے غیر قانونی قبضہ کررکھا ہے تو فلسطین اسرائیل کے زیر تسلط ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کانفرنس کے منگل کو ہونے والے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ان دونوں علاقوں کا حوالہ دے کر درست کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر ہم ناکام ہوچکے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے بجا طور پر مسلم دنیا کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ وہ باتیں جن پر او آئی سی کے تمام رکن ممالک کے سربراہوں کو غور کرنے اور پھر اس غور کے نتیجے میں کوئی مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے مگر یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ اس حوالے سے باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن غور اور عمل کا راستہ نہیں کھولا جاتا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس طرح اقوامِ متحدہ مغرب کے طاقتور اور مضبوط ممالک کے قبضے میں ہے اسی طرح او آئی سی پر مالی اعتبار سے مستحکم مسلم ممالک نے اپنا تسلط قائم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ او آئی سی آزادانہ طور پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی جو مسلمانوں کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کو یقینی بناسکے بلکہ اس پلیٹ فارم پر صرف وہی باتیں زیر بحث آسکتی ہیں اور وہی فیصلے ہوتے ہیں جن کی وہ ممالک اجازت دیں جنھوں نے اس کے معاملات کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی ڈھکی چھپی نہیں کہ او آئی سی میں زیادہ اثر و رسوخ کے حامل رکن ممالک امریکا کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے اس پلیٹ فارم پر ایسی کوئی بات نہیں ہوسکتی جس سے امریکی مفادات پر زد پڑتی ہو یا امریکا کے کسی قریبی اتحادی کو گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ کئی مواقع پر اس تنظیم کے رویے سے ایسا بھی ظاہر ہوا کہ مسلکی بنیادوں پر ایک پلڑے میں وزن ڈال کر اس نے مسلم اتحاد کا شیرازہ بکھیر دیا۔

او آئی سی کی بنیاد 21 اگست 1969ء کو یروشلم میں ہونے والے اس تکلیف دہ واقعے کے نتیجے میں رکھی گئی تھی جس میں ایک آسٹریلوی مسیحی ڈینس مائیکل روہان (Denis Michael Rohan) نے مسجدِ اقصیٰ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور کے آٹھ صدیاں پرانے منبر کو آگ لگادی تھی جس سے مسجد کے کچھ حصے کو بھی نقصان پہنچا تھا لیکن آج بھی اسرائیل کی غاصب افواج کے فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف یہ تنظیم ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرتی جس سے امریکا کے ناراض ہونے کا امکان ہو۔ اس سلسلے کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ گزشتہ سال 7 مئی کو رمضان کے آخری عشرے میں غاصب اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ پر حملہ کیا تو اس پر ردعمل کے اظہار کے لیے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس اس واقعے کے نو روز بعد 16 مئی کو بلایا گیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو او آئی سی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے ایک علامتی شناخت تو رکھتی ہے لیکن عملی طور پر یہ ایک غیر مؤثر ادارہ ہے جسے مسلم دنیا کو بہلانے کے لیے ایک کھلونے کی مانند استعمال کیا جاتا ہے۔

پچھلا پڑھیں

پاکستانی وزیرخارجہ چینی حکومت کی خصوصی دعوت پر چین روانہ

اگلا پڑھیں

سعودی عرب: خواتین کو بغیر محرم عمرہ کرنے کی اجازت مل گئی

تبصرہ شامل کریں