fbpx
ozIstanbul

عراقی ایئر فورس اور پاک فضائیہ  میں تعاون

عراقی فضائیہ کے لیے جے ایف سیونٹین تھنڈر

عراقی ایئر فورس  کے ڈپٹی کمانڈر نے دو روز قبل وفد کے ہمراہ پاکستان ایئر فورس کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا ۔ دورے کے دوران انھوں نے  پاک  فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک کی ایئر فورسز کے درمیان تعاون ، خاص طور پر پاک فضائیہ کی طرف سے عراقی ایئر فورس کے لیے تکنیکی اور تربیتی سپورٹ کی یقین دہانی اور  عراق کی جانب سے پاکستان سے جے ایف سیونٹین تھنڈرکی خریداری پر تفصیلی جائز ہ لیا گیا ہے۔

عراقی ایئر فورس اور پاک فضائیہ  میں تعاون

عراقی ایئر فورس کے ڈپٹی کمانڈر میجرجنرل  پائیلٹ محمد مجید مہدی نے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا اور پاک فضائیہ کے سربراہ سمیت سنیئر آفیشلز سے ملاقات کی۔ اس سے پہلے بھی عراقی فضائیہ اور وزارت دفاع  کا ایک وفد  پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کا دورہ کرچکے ہیں۔ عراقی ایئر فورس کو خاص طورپر اپنے ایف 16 بلاک 52 طیاروں کو مرمت  اور اڑنے کے قابل  رکھنے کے حؤالے سے مشکلات کا سامناہے۔ لہذا عراق پاکستان سے اس معاملے پر مدد کا خواہشمند ہے۔ کیوں کہ پاکستان نہ صرف ایف 16 کا ایک لارج فلیٹ اپریٹ کرتا ہے، بلکہ بلاک 52 طیارے بھی پاک فضائیہ  گزشتہ ایک دہائی سے استعمال کررہی ہے۔ پاکستان کے پاس ان طیاروں کی دیکھ بھال کرنے  کے حوالے سے انفراسٹرکچر  اور ٹیکنیشنیئر موجود ہیں۔

پاک فضائیہ کی یقین دہانی

اس پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر عراقی ایئر فورس کے وفد کے دورہ پاکستان اور ایئر فورس کی جانب سے پریس ریلیز کو دیکھیں تو اس بات کی کسی حدتک تصدیق ہوتی ہے کہ پاک فضائیہ عراقی ایئر فورس کی مختلف حؤالوں سے مدد کرنے کو تیارہے۔ پی اے ایف کی پریس ریلیز کےمطابق عراقی ایئر فورس کے کمانڈر نے پاک فضائیہ کے پروفیشنلزم اور  ایوی ایشن  انڈسٹری میں بڑھتی خودانحصاری کی تعریف کی۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے سربراہ  کی جانب سے عراقی ایئر فورس  کی فضائی قوت کی  ضروریا ت  کو پورا کرنے کے لیے اس کو تربیت  اور ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرنے  کی یقین دہانی کرائی ۔

اس پریس ریلیز میں لکھا ہے کہ دونوں کمانڈرز نے اس شعبے میں  تعاون سے متعلق نئے راستے تلاش کرنے   بشمول جے ایف سیونٹین پروگرام پر تعاون   پر اتفاق کیا۔

عراق کے لیے جے ایف سیونٹین ؟

عراق کو نہ صرف   اپنی ایئر فورس کے فرنٹ لائن فائٹر ایئر کرافٹ ایف 16 کو مینٹین اور ایئر ورتھی رکھنے کے حؤالے سے مسائل درپیش ہیں بلکہ امریکہ کی طرف سے عراق کو فراہم کردہ ایف 16 کے ساتھ جدید درمیانے فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنیوالے میزائل تک آفر نہیں کیے گئے۔اسکی بجائے سیمی ایکٹیو ریڈار گائیڈڈ اے آئی ایم سیون عراق کو ان طیاروں کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں جو پرانی ٹیکنالوجی اور صرف ستر کلومیٹر کی رینج رکھتاہے۔

اس صورت حال کو لیکر عراق کو کسی ایسے ایئر کرافٹ کی ضرورت ہے جو نہ صرف جدید میزائلزاور سسٹمز سے لیس ہو، بلکہ ایک کاسٹ افیکٹیو، کم دیکھ بھال  اور تینوں طرح کے اپریشنز سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتا  ہو۔ لہذا جے ایف سیونٹین تھنڈر ان ضروریات  کو بخوبی پورا کرسکتا ہے۔ یہ  نہ صرف مدمقابل طیاروں  سے سستا، بلکہ ورائیٹی آف ویپنز سے لیس اور لومینٹینس ایئر کرافٹ ہے۔ بلاک تھری میں کی جانیوالی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تبدیلیاں  اسکو مزید آئیڈیل بناتی ہیں۔

لہذا عراق اس آپشن پر کافی سنجیدگی سے غورکررہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ عراق اپنی فضائیہ کے لیے بہت جلد پاکستان سے جے ایف سیونٹین تھنڈر کا بلاک تھری حاصل کرنے کے معاہدہ کرے، کیوں کہ پس پردہ اس بارے میں بات چیت گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔

 

پچھلا پڑھیں

پاکستان میں انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس بیٹل مینجمنٹ سنٹر کا افتتاح

اگلا پڑھیں

پاک بھارت میں خواتین کے حقوق کی علمبردار کملا بھاسن انتقال کر گئیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے