تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا پاکستان میں ہونے والے ممکنہ پاک-امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تہران میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی اور واضح کیا کہ ایران کسی قسم کے دباؤ یا ڈیڈ لائن کو قبول نہیں کرے گا۔
مذاکرات سے انکار کی بنیادی وجوہات
ترجمان کے مطابق امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں، جس کی بنیاد پر مثبت نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے درج ذیل اہم نکات کی نشاندہی کی:
- جنگ بندی کی خلاف ورزی: امریکہ نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی اس کی خلاف ورزیاں شروع کر دیں، جس کے ثبوتوں سے ثالث (پاکستان) کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
- بحری ناکہ بندی: امریکہ نے بحری ناکہ بندی کر کے اور ایرانی جہازوں کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
- ماضی سے سبق نہ سیکھنا: امریکہ نے اپنے ماضی کے تجربات اور غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر دو ٹوک مؤقف
اسماعیل بقائی نے ایران کی ریڈ لائنز (Red Lines) کو واضح کرتے ہوئے کہا:
- ایران کا جوہری پروگرام ملک کے اندر ہی مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے گا اور اسے کسی بھی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
- موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو فوری طور پر معمول پر لانا ممکن نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ
ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی نئی جارحیت کی گئی تو ایران اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں اور ملک اپنے دفاع کا بین الاقوامی حق محفوظ رکھتا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی کا ردعمل
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"ہم مذاکرات کو میدانِ جنگ کے تسلسل کے طور پر ہی دیکھ رہے ہیں۔ بات چیت کی میز پر بیٹھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم مخالف کی ہر شرط قبول کر لیں۔ ہماری اولین اور حتمی ترجیح صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے۔”
