تہران / اسلام آباد / ماسکو: مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے درمیان، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے حالیہ سفارتی دورے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
پاکستان، عمان اور روس کے ساتھ ہونے والی ان کی حالیہ اور متوقع اعلیٰ سطحی ملاقاتیں خطے کی سفارتی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
1. پاکستان کا دورہ: سیکیورٹی اور سفارتی روابط میں گہرائی
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سفارتی مشن کا آغاز اسلام آباد سے کیا، جسے انہوں نے مجموعی طور پر "انتہائی مفید اور کامیاب” قرار دیا ہے۔


- اعلیٰ سطحی ملاقاتیں: عباس عراقچی کی وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ملاقاتیں نہایت تعمیری اور مثبت ماحول میں ہوئیں۔
- 24 گھنٹوں میں دو ملاقاتیں: اس دورے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں اپنے مختصر قیام کے دوران محض 24 گھنٹوں کے اندر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے دو اہم ملاقاتیں کیں۔ سفارتی و دفاعی ماہرین ان ملاقاتوں کو دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفارتی روابط میں غیر معمولی بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
- ملاقاتوں میں خطے میں جاری کشیدگی کے ممکنہ حل اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
2. عمان کا دورہ: آبنائے ہرمز کی سلامتی پر اتفاق
اسلام آباد کے بعد عباس عراقچی نے عمان کا رخ کیا، جو خطے میں ایک خاموش مگر اہم ثالث (Mediator) کی حیثیت رکھتا ہے۔

- آبنائے ہرمز پر خصوصی غور: اس ملاقات کا مرکزی نقطہ ‘آبنائے ہرمز’ کی موجودہ صورتحال تھی، جو دنیا کی تیل کی تجارت کے لیے سب سے اہم اور حساس آبی گزرگاہ ہے۔
- مشترکہ ذمہ داری: ایران اور عمان، دونوں اس گزرگاہ کے ساحلی ممالک ہونے کے ناطے، اس کی سیکیورٹی اور محفوظ آمد و رفت کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے باہمی رابطوں اور مشاورت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
3. روس آمد: صدر پیوٹن سے متوقع ملاقات
اس اہم مشن کے تیسرے مرحلے میں ایرانی وزیر خارجہ اب روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی ملاقات روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے طے ہے۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کا ایجنڈا انتہائی اہم ہے:

- موجودہ عالمی جنگی صورتحال اور اس کی تازہ ترین پیش رفت۔
- خطے میں جاری کشیدگی اور سیاسی و سفارتی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال۔
- ایران اور روس کے درمیان اس مسلسل ہم آہنگی کو خطے کے استحکام اور عالمی طاقتوں کے توازن کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
