ڈھاکہ میں ایرانی سفارتخانے میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کے سفیر جلیل رحیمی جہانآبادی نے کہا کہ تہران کو توقع تھی کہ ایک مسلم ملک ہونے کے ناطے بنگلہ دیش اس جارحیت کی واضح طور پر مذمت کرے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔اگرچہ اس معاملے پر ایران فوری طور پر کوئی باضابطہ خط نہیں بھیجے گا، تاہم وہ مستقبل میں وزیرِاعظم بنگلہ دیش سے ملاقات کے دوران اس مسئلے کو ذاتی طور پر اٹھائیں گے۔
سفیر کے مطابق ایران کے حوالے سے بنگلہ دیش کے بیان میں وضاحت کی کمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور اسپین نے اس حملے کی کھل کر مذمت کی، جبکہ بنگلہ دیش نے صرف “تشویش” کا اظہار کیا۔
سفیر جلیل رحیمی جہانآبادی نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی پڑوسی مسلم ملک پر حملہ نہیں کر رہا بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو ممالک اپنی سرزمین پر امریکی اڈوں کی اجازت دیتے ہیں وہی بالواسطہ طور پر عام شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود بعض عرب ممالک کیوں امریکہ کو فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟
اختلافات کے باوجود ایرانی سفیر نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوئی اقدام کرے تو ایران اس کا خیرمقدم کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ایران میں موجود بنگلہ دیشی شہریوں کی واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے رکن ہونے کے تحت بنگلہ دیش کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنا مؤقف مزید واضح کرنا چاہیے۔
