استنبول: ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں میں ملک کے وسیع و عریض نطنز جوہری مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کے سفیر رضا نجفی نے International Atomic Energy Agency 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ایک بار پھر انہوں نے ایران کی پُرامن اور نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کن تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیا: "نطنز۔”
یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکا اس سے قبل گزشتہ جون میں بھی ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات پر بمباری کر چکے ہیں، جن میں Natanz Nuclear Facility بھی شامل تھا۔ نطنز میں یورینیم افزودگی کا کارخانہ قائم ہے۔
افزودگی کی ٹیکنالوجی کوہری بجلی گھروں کے ایندھن کی تیاری کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، تاہم تہران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی بم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب Rafael Grossi، جو کہ International Atomic Energy Agency کے سربراہ ہیں، نے پیر کے روز بورڈ آف گورنرز کے خصوصی اجلاس میں کہا تھا کہ حالیہ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کے نشانہ بننے یا نقصان پہنچنے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔
صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ سفارتی حلقوں میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
