مارچ کے مہینے میں زلزلے سے متعلق امدادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے شروع کیے گئے ایک خصوصی چارٹرڈ فلائٹ آپریشن فلائٹ کے ذریعے 50 ہزار خیمے تیز رفتاری سے ترکیہ تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
یومیہ اوسطا 24 سو سے زائد خیمے ترکیہ بھیجے جا رہے ہیں۔15 ماچ کو تین پروازیں 1200، 1400 اور 1200 خیمے لے کر ادانا پہنچیں۔
11مارچ 2023سے اب تک8 پروازوں کے ذریعے 9 ہزار 8 سو خیمے ترکیہ کو پہنچائے جا چکے ہیں۔
ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں فیکٹریاں موسم سرما، پانی اور فائر پروف ٹینٹ کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر تینوں ٹرانسپورٹ روٹس یعنی فضائی، سڑک اور ریلوے استعمال ہو رہے ہیں۔
اس خصوصی پرواز کے سلسلے کے علاوہ، 10 ہوائی جہاز ترکیہ میں امدادی سامان لے کر آئے ہیں۔ اس میں تین پاکستان ایئر فورس (PAF) C-130، ایک PAF IL-78، ایک ترک ملٹری طیارہ، دو ترک کارگو، پی آئی اے کی تین چارٹرڈ پروازیں شامل ہیں۔
مزید برآں، امدادی سامان استنبول کے لیے پی آئی اے کی معمول کی پروازوں کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، فروری کے مہینے میں 21 ٹرکوں کے قافلے نے تقریباً 275 ٹن امدادی سامان ملاطیا تک پہنچایا۔ زلزلے سے متعلق امدادی سامان لے کر تین بحری جہاز ترکیہ کے راستے میں ہیں، جو مارچ کے تیسرے ہفتے میں مرسین پہنچیں گے۔
وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مکمل بحالی تک اپنی امدادی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کے لیے موسم سرما کے خصوصی خیموں کی آٹھویں کھیپ روانہ کر دی گئی ۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر خصوصی پرواز کے ذریعے موسم سرما کے مزید 1200 فیملی خیمے روانہ کئے گئے ۔ آگ سے محفوظ خیموں کی(90 ٹن) 7 ویں کھیپ لاہور سے روانہ کی گئی ۔
