fbpx
ozIstanbul

یوم الفتح کیسے آتے ہیں ؟

تحریر : کامران رفیع

جب کوی بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو لوگ بس اس گلیمر اور شہرت کو یاد رکھتے ہیں ۔اور اس کے پیچھے ہونے والی جدوجہد تدبر اور انتھک محنت کو بھول جاتے ہیں۔ کچھ یہی معاملہ سلطان محمد الفاتح کا بھی ہے۔

لوگ آیا صوفیا یاد رکھتے ہیں ، شہر کی فصیل کا ٹوٹنا یاد رکھتے ہیں , یا سلطان کا شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہونا یاد رکھتے ہیں۔

اکثریت کو اس بات سے کچھ دلچسپی نہیں ہوتی کہ سلطان نے شہر کی فصیل تک پہنچنے اور اس کو تسخیر کرنے کے لیا کیا کیا ریاضتیں کیں۔

بارہا ایسا ہوتا کہ سلطان رات کے اندھیرے میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ یونانیوں کی تیاریوں کا جاٸزہ لینے نکل کھڑا ہوتا۔ پھر ساری ساری رات تنہا جاگ کر دشمن کی دفاعی چوکیوں اور اسلحہ وغیرہ کا نقشہ تیار کرتا رہتا۔

مگر یہ مرحلہ بھی بہت بعد کا ہے ۔ اس سے بہت پہلے سلطان نے قسطنطنیہ فتح کرنے کے لیے ایک گرینڈ سٹریٹجی ترتیب دی۔

گرینڈ سٹریٹجی میں معاشی ریفارمز بھی تھیں صنعتی ترقی بھی تھی اور تعلیمی اصلاحات بھی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات پر بھی خصوصی توجہ شامل تھی۔

سلطان نے برسر اقتدار آنے کے کچھ ہی عرصہ میں ملک کے تعلیمی نصاب کو ازسر نو اس طرح سے ترتیب دیا کہ ساٸنس اور باالخصوص انجینرنگ اور میڈیکل کی تعلیم کومذہبی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ خصوصی اہمیت دی گٸ ۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں متعدد بڑی صنعتیں قاٸم ہوٸیں جو اسوقت کے یورپ میں ناپید تھیں۔ سلطان نے ان صنعتوں کو آپس میں اس طرح مربوط کیا کہ یہ صنعتیں ملک کی معاشی و عسکری قوت کو یکساں عروج پر لے گٸیں ۔

اس کے علاوہ سلطان محمد نے جغرافیہ کی تعلیم اور نقشوں کے حصول اور تیاری پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ سلطان کے پاس اپنے زمانے کا گوگل میپ موجود تھا کہ جس پر اسوقت کے ہراہم یورپی شہر کی تفصیل درج ہوتی تھی۔ سلطان کی اس صلاحیت سے سارے یورپی بادشاہ خوفزدہ بھی رہتے تھے۔وینس کے ایک تاریخ دان نے اپنےبادشاہ کو بتایا ”اسکے پاس یورپ کا نقشہ ہے جس پر ممالک اور ریاستیں نشان زد ہیں وہ جغرافیہ اور عسکری تربیت جا شیداٸ ہے وہ چھا جانے کی خواہش سے بھرا ہوا ہے ۔ وہ ذہین محقق ہے ۔ اس قسم کے آدمی سے ہم عیساٸیوں کو واسطہ پڑا ہے “

اور حقیقت یہی ہے کہ ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر اور قوم کے سامنے متعین نصب العین ہوتا ہے ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ قسطنطنیہ کی فتح کو نصب العین بنانے میں سلطان کے استاد شمس الدین حمزہ کا بنیادی کردار ہے ۔ وہ خود نہ صرف ایک صوفی اور عالم تھے بلکہ ایک بڑے ساٸنسی محقق بھی تھے انہوں نے جراثیم کی موجودگی کا نظریہ اپنی کتاب مدات الحیات میں بیش کیا تھا۔ بہرحال ایسے عظیم استاد نے اواٸل عمر میں ہی سلطان کا وژن بنادیا کہ اسنے رسول اللہ کی بشارت کا حقدار بننا ہے۔

سلطان نے بشارت کو فارگرانٹڈ نہیں لیا اور مصلا بچھا کر صرف دعاٸیں نہیں کیں بلکہ حسن تدبیر اور جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ اور جو اسوقت کی انسانی بساط میں بہترین کاوش ہوسکتی تھی اسے اختیار کیا ۔

یہ سب کرکے سلطان میدان عمل میں نکلا اور اسے اپنے مقصد کے حصول کی اسقدر لگن تھی کہ جنگ کے دوران بارہا اسنے اپنا گھوڑا باسفورس کے پانیوں میں دور تک دوڑا دیا اور دشمن کے گولوں اور تیروں کی پرواہ نہ کی کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ قسطنطنیہ کی فتح اسکی زندگی سے زیادہ اہم مقصد ہے۔

اور پھر 29 مٸ 1453 کو وہ دن آیا کہ سلطان محمد فاتح کی حیثیت سے آیا صوفیا میں داخل ہوا ۔ اور محقق ہیلری سمر کے مطابق جب وہ آیا صوفیا میں داخل ہوا تو اسکا سر انکساری سے جھکا ہوا تھا اور وہ گھوڑے سے اترا اس نے سجدہ کیا اور مزید انکساری کے لیے اس نے خاک اپنے سر پر ڈال کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ یہ پڑھتے ہوۓ مجھے فاتح مکہ صل اللہ علیہ وسلم کا عجز سے مکہ میں داخل ہونا یاد آگیا اور یاد آ گیا کہ آپ علیہ الصلوة والسلام نے فاتح قسطنطنہ کے بارے میں بشارت دی تھی کہ کیسا ہی شاندار ہوگا وہ حکمران جو قسطنطنہ فتح کرے گا ۔ تو اس شاندارسلطان کی زندگی بھرکی جدوجہد میں ماضی کی شان تلاش کرتی اس امت کے لیے اہم سبق ہے کہ یوم الفتح صرف خواہشوں اور دعاوں سے نہیں آیا کرتے ۔

پچھلا پڑھیں

پاکستان میں حلیمہ سلطان کی آواز بننے والی آرٹسٹ کون ہیں؟

اگلا پڑھیں

کویت نے پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنے پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے