رپورٹ : نور فاطمہ
حال ہی میں معروف امریکی چینل سی این این نے اسرائیلی ٹارچر سیلز کی ایک ویڈیو لیک کی جِس میں فلسطینیوں پر اسرائیلی قید خانوں میں ہونے والا تشدد دکھایا گیا، اس ویڈیو میں اسرائیل کے ایک ٹارچر سیل کا نقشہ کھینچا گیا جہاں فلسطینی شدید صعوبتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اس ویڈیو میں 20 مریض دکھائے گئے جو برہنہ تھے اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی تھی، فلسطینی قیدیوں کے بدن پر ڈائپر کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
سی این این کی اِس ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے ترکیہ اردو نے معروف فلسطینی ڈاکٹر عدنان البرش شہید جو اسرائیلی ٹارچر سیل میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے تھے ان کی بیوی سے رابطہ کیا۔
ڈاکٹر عدنان البرش کی اہلیہ سے ان کے شوہر کی گرفتاری کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ وه فلسطينی کارکن تھے جو ہمیشہ فلسطين کی آزادی اور خودمختاری پر کام کرتے تھے۔ ٱن کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ تھا کہ وه اسرائيلی افواج کو فلسطین کی سرزمین سے نکال باہر کریں اور فلسطین کو آزادی جیسی نعمت سے نوازیں۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کی گرفتاری کی خبر مجھ پر پہاڑ بن کہ ٹوٹی۔ یہ بات میرے وہم و گمان میں ہی نہیں تھی کہ انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے لیکن وقت کہ ساتھ میں نے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرلیا۔
ڈاکٹر عدنان البرش کی جسدِ خاکی ابھی تک ان کے اہلِ خانہ کے سپرد نہیں کی گئی۔ جو بلاشبہ عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ٱن کہ جسد خاکی کو ابوکبیر کے ایک سردخانے میں رکھا گیا ہے۔ اسرائيلی افواج نے ٱن کو 17 دسمبر 2023 میں گرفتار کیا جبکہ 19 اپریل 2024 تک خفیہ جیل میں رکھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
جب ڈاکٹر عدنان البرش کی اہلیہ سے یہ دریافت کیا گیا کہ ان کے شوہر کِن قید خانوں میں رہ چُکے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اسرائیل میں انہیں تل ابیب میں نیگو، نفحہ ، کشون ، اشکلون اور عفر کے ٹارچر سیلز میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معلومات ان کے ساتھی قیدیوں سے ملی ہے جو اسرائیلی صعوبت خانوں اور زندانوں میں ڈاکٹر عدنان البرش کے ہمراہ اذیتیں برداشت کر کے زندہ لوٹے تھے۔
وہ کہتی ہے کہ جو فلسطینی ایک دفعہ اسرائیلی قید میں چلا جاتا ہے ان کا رابطہ اُس کے اہلِ خانہ یا وکیل کے ساتھ نہیں ہو ہوسکتا جو کھلم کھلی قیدیوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق جِس کے مطابق قید خانے میں اس طرح کی اذیتیں نفسیاتی طور پر انسان کو کمزور کر دیتی ہیں اور بعد ازاں جسمانی طور پر بھی انسان کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ان اذیتیوں کی وجہ سے انسانی جسم عضلاتی مسائل، دورانِ خون کی پیچیدگیاں، قلبی مسائل ، جلد کے مسائل، سانس کے مسائل اور غذائیت کی کمی جیسے سنگین صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
