ترکیہ کی حسین تاریخی مسجد

Mehmet Mermer HAMİDİYE Camii کر شہر کی ایک نادر نمونہ مسجد ہے۔

اس کا نام مہمت مرمر حمیدیہ مسجد ہے۔ سن 1910 میں یہ اینٹ گارے سے بنائی گئی عام سی مسجد تھی جو علاقے کے نمازیوں کے لئے ناکافی تھی۔ پھر اسے نئے سرے سے تعمیر کیا گیا۔ اس کے فن تعمیر میں اسلامی و مقامی جزئیات کا خیال رکھا گیا۔

مثلا اس مسجد کا مرکزی خیال سورہ بقرہ کی آیت نمبر 22 ہے۔
الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً۪-وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)
ترجمہ:
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور اس نے آسمان سے پانی اتاراپھر اس پانی کے ذریعے تمہارے کھانے کے لئے کئی پھل پیدا کئے تو تم جان بوجھ کر اللہ کے شریک نہ بناؤ۔


اس آیت میں سے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنا کر اس میں سے پانی اتارنے اور پھلوں کے عنوانات کو منتخب کرکے اس مسجد کی تعمیر تزئین کی گئی۔


اس مسجد کے بیرونی دیوار پر جلی حروف میں لفظ اللہ لکھا ہوا ہے۔ اور وہ ترقواز رنگ میں لکھا گیا ہے جو کہ ترک ثقافت کا اہم اور بنیادی رنگ ہے ۔

اندرونی حصے میں محراب پر آبشار بنائی گئی ہے۔ کھڑکیوں اور دیواروں پر مرکزی اناطولیہ کے درخت بنائے گئے ہیں جیسے صنوبر کے درخت جو کہ اناطولیہ کی اہم علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اور انگور کی بیلیں چونکہ اناطولیہ میں بیل دار درختوں کا کافی رواج ہے اس لئے انگور کے باغات کی تشبیہ جو جنت سے میل کھاتی ہے وہ تصور یہاں بھی لاگو کیا گیا ہے۔ فرش کو گھاس والی ہری بھری دکھایا گیا ہے بادلوں سے پانی اتارنا دکھایا گیا ہے۔ اس مسجد کا تصور کریں تو لگتا ہے گویا انسان جنت میں نماز ادا کر رہا ہو.

Read Previous

یوٹیوب شارٹس کے ذریعے پاکستان میں بھی پیسے کمائے جا سکیں گے

Read Next

ٹک ٹاک اور ایڈکاسا نے 18 ہزار پاکستانی طلبہ کے لیے وظائف کا اعلان کر دیا

Leave a Reply