Turkiya-Logo-top

سلطان عبد الحمید ثانی کا ادھورا خواب ایک صدی بعد پورا ہونے کو: تاریخی ‘حجاز ریلوے منصوبہ’ کی بحالی کا اعلان

انقرہ / ریاض: تاریخ کے اوراق میں دفن ہونے والا خلافت عثمانیہ کا ایک عظیم اور نامکمل منصوبہ ایک صدی بعد پھر سے زندہ ہونے جا رہا ہے۔ سلطان عبد الحمید ثانی کی وفات کے تقریباً 117 برس بعد، ترکیہ، شام، اردن اور سعودی عرب نے مل کر تاریخی "حجاز ریلوے پراجیکٹ” کو جدید طرز پر بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تاریخی پس منظر: سلطان عبد الحمید ثانی کا خواب

حجاز ریلوے لائن سن 1900 سے 1908 کے درمیان خلافت عثمانیہ کے دورِ حکومت میں سلطان عبد الحمید ثانی کے خصوصی حکم پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ محض ایک سفری منصوبہ نہیں تھا، بلکہ سلطان اسے اپنا سب سے بڑا "خواب” کہا کرتے تھے۔

  • اصل ہدف: اس منصوبے کا اصل مقصد عثمانی دارالخلافہ اسطنبول کو براہِ راست مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ تک بذریعہ ٹرین جوڑنا تھا۔
  • مقاصد: حجاج اور زائرین کے سفر کو محفوظ اور آسان بنانا، خطے میں فوجی و لوجسٹک غلبہ یقینی بنانا اور اسلامی دنیا کو ایک لڑی میں پرونا۔
  • عوامی فنڈنگ: غیر ملکی قرضوں سے بچنے کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس "حمیدی حجاز ریلوے” کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔

خواب ادھورا کیوں رہ گیا؟

بدقسمتی سے 1909 میں خلیفہ عبد الحمید ثانی کی معزولی کے بعد یہ عظیم منصوبہ دمشق سے مدینہ منورہ (1322 کلومیٹر) تک ہی محدود رہ گیا۔ پہلی جنگ عظیم، تکنیکی و مالی مشکلات اور خطے میں ہونے والی عرب بغاوتوں کے باعث شمال میں اسطنبول سے دمشق اور جنوب میں مدینہ سے مکہ تک کا ٹریک کبھی نہیں بچھایا جا سکا۔

انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں تاریخی اعلان

گزشتہ دنوں ترکیہ میں منعقد ہونے والے عالمی سطح کے پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم (17 سے 19 اپریل 2026) میں اس منصوبے کی بحالی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔

ایک خصوصی سیشن کے دوران تُرک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ایک نقشہ پیش کرتے ہوئے انقرہ کا نیا جیو پولیٹیکل ویژن دنیا کے سامنے رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ:

"حجاز ریلوے منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے۔ یہ ایک وسیع نقل و حمل اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ ہے جو ترکیہ، شام، اردن اور سعودی عرب کو ایک بار پھر آپس میں جوڑے گا۔”

حاقان فیدان نے واضح کیا کہ اس جدید منصوبے کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی اور اسٹریٹجک انضمام کو انہی تاریخی بنیادوں پر استوار کرنا ہے جو سلطان عبدالحمید نے دیکھی تھیں۔

سعودی عرب اور ترکیہ کے اہم اور تازہ ترین اقدامات

اس تاریخی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خطے کے اہم ممالک نے تیزی سے کام شروع کر دیا ہے:

  • سعودی عرب کا مؤقف: سعودی وزیر برائے ٹرانسپورٹ، صالح الجاسر نے 22 اپریل 2026 کو تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کو اردن اور شام کے راستے ترکیہ سے جوڑنے والے اس ریلوے لنک کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی (تحقیقاتی مطالعہ) رواں سال کے اختتام سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کا موجودہ قومی ریلوے نیٹ ورک الحدیدہ کراسنگ کے ذریعے پہلے ہی اردن کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔
  • ترکیہ کی پیش رفت: ترک وزیر برائے ٹرانسپورٹیشن عبدالقادر اورال اوغلو (3 اپریل 2026) کے مطابق، انقرہ تاریخی حجاز ریلوے کی بحالی کے پہلے قدم کے طور پر شام کے شہر حلب تک ریلوے لائنوں کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Read Previous

پاکستان کا ماسٹر اسٹروک: افغانستان کو بائی پاس کر کے وسطی ایشیا کے لیے نیا تجارتی روٹ فعال

Read Next

ترکیہ کا بحیرہ روم میں بڑا معاشی و صنعتی ترقیاتی پروگرام: سرمایہ کاروں کے لیے شاندار مراعات کا اعلان

Leave a Reply