fbpx

ہارٹ آف ایشیاء-استنبول پروسیس

تحریر: شاہد خان

تاجکستان کے دارالحکومت ” دوشنبہ” میں آج شروع ہونے والا دو روزہ  `ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس`

 ایک ایسے موقع پر ہورہا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات مشکلات کا شکار ہے۔ افغانستان میں جنگ بندی تشدد کے خاتمے کے لیے بین الافغان مذاکرات کے علاؤہ بھی  مختلف کانفرسسز کا سلسلہ جاری ہے تاہم تشدد میں کمی تاحال نظر نہیں آرہی۔

دسمبر 2019 میں ترکی میں ہونے والی آٹھویں کانفرس میں  15 رکن ممالک نے افغان جنگ کے فریقین پر بین الافغان مذاکرات کے لیے جنگ بندی پر زور دیا تھا  تاکہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے لائحہ عمل اور مستقل جنگ بندی کے کسی سمجھوتے پر اتفاق ممکن ہو سکے۔

حال ہی میں ہونے والی ماسکو کانفرس میں بھی چار مماملک, امریکہ، روس ، چائنہ اور پاکستان نے افغانستان میں جنگی بندی پر زور دیا اور طالبان سے موسم بہار کا آپریشن نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم دونوں فریقین کے مابین اب تک جنگ جاری ہے۔

ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس میں بھی رکن ممالک کی جانب سے طالبان پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھایا جائے گا۔ افغان صدر اشرف آج ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ کانفرس میں شرکت کے لیے تاجکستان روانہ ہوگئے ہیں جب کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستانی وفد کی سرابرہی کریں گے۔

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق، شاہ محمود قریشی دوشنبہ میں منعقدہ 9 ویں ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس (ہوآ-آئی پی) وزارتی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ امن و ترقی کے لئے اتفاق رائے کو مستحکم بنانے” کے موضوع پر منعقدہ وزارتی کانفرنس کے دوران ، وزیر خارجہ ایک بیان دیں گے ،جس میں افغان امن عمل میں پاکستان کی مثبت شراکت اور علاقائی فریم ورک کے اندر افغانستان کی ترقی اور رابطوں کے لئے تعاون کو اجاگر کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے مطابق کانفرنس کے موقع پر ، وزیر خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے مشاورت کریں گے۔ دوشنبہ کے اپنے دورے کے دوران ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے تاجک ہم منصب سے ملاقات کے علاؤہ تاجک قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کے تمام امور کا جائزہ لیں گے۔

ہارٹ آف ایشیاء استنبول پروسیس کیا ہے ؟

نومبر 2011  کو ترکی کے شہر استنبول میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اس تنظیم کوہارٹ آف ایشیا استنبول پروسیس کا نام دیا گیا۔ یہ تنظیم 15 ممالک پر مشتمل ہے جس میں افغانستان، آذربائیجان، چین، بھارت، ایران، قزاقستان، قرغزستان، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان شامل ہیں۔

اس تنظیم کے مزید سترہ معاون ممالک بھی ہیں جن میں امریکہ ،برطانیہ،جرمنی اورکنیڈا بھی شامل ہیں۔

مقصد کیا ہے ؟

اس تنظیم کا بنیادی مقصد افغانستان میں دیر پا امن قائم کرنے کے لیے اس کے پڑوسی ملکوں کے درمیان تعاون اور علاقے کے دیگر ممالک کے درمیان رابطہ قائم کر کے ایک مربوط حکمتِ عملی ترتیب دینا ہے۔ افغانستان اور اس پورے خطے میں غربت انتہا پسندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی توجہ دینا ہے۔

چونکہ اس فورم کا بنیادی فوکس افغانستان پر ہے اس لیے اس خطے میں پر امن افغانستان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس تنظیم کا مرکزی دفتر کابل میں ہی قائم کیا گیا ہے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

بنگلادیش میں مودی خلاف مظاہرے، چار افراد جاں بحق

اگلا پڑھیں

ترکی میں کورونا وائرس کے حالات مزید بگڑ گئے

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے