ozIstanbul

عالمی سازش۔۔۔حقیقت یا فسانہ

تحریر: شبیر احمد

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف موجودہ عالمی سازش کی یقینی اور غیر یقینی ایک طرف مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عالمی بیرونی طاقتیں اندرون ملک سازشوں میں ملوث ہوتی رہی ہیں۔

بیسویں صدی کی پوری تاریخ ان کی سازشوں سے بھری پڑی ہے۔ معاشی استحکام کی خاطر دوسروں کے معاشی ذرائع پر قبضے جمانا، وہاں موجود قدرتی ماحول کو اپنی کارپوریشنز کے ذریعے ملیا میٹ کرنا، کمپنیوں اور پلانٹس کے زہر آلود پیداوار سے مکینوں کی زندگی اجیرن بنانا، ملک کو معاشی بوجھ تلے دبا کر رکھنا، پرو ویسٹ حکمران ٹولے کو مسلط کرنا، خودداری کا زرا برابر مظاہرہ کرنے والوں کو فقط کرسی سے ہٹانے پر اکتفا نہ کرنا بلکہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا، یہی ان کا روز اول سے وطیرہ رہا ہے۔

اسکی چند مثالیں ملاحظہ کریں، اور جانیئے کہ عالمی طاقتیں تیسری دنیا کے ساتھ کیا کرتی آ رہی ہے۔

80 کی دہائی میں پاناما کے صدر عمر توریجوس کے خلاف بیرونی مداخلت اور سازش ہوئی۔ پاناما کینال پر خوداریت کی پالیسی اپنانے، عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینے، بیرونی معاشی غاصبیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کھڑے رہنے اور کارٹر جیسے صدر کو پاناما کینال معاہدے پر مجبور کرنے والے عمر توریجوس کو سزا یہ ملی کہ ان کے جہاز کو بم سے اڑا دیا گیا۔جان پرکن اپنی کتاب "معاشی غارت گر کی کہانی” میں عمر توریجوس سے ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے برملا مجھے کہا تھا:
"Give me what is best for my people”
پھر اسی سال جب عمر توریجوس کے جہاز کو بم سے اڑایا گیا، ملک کو بیرونی کارپوریٹس سے جدا کرنے کی پاداش میں ایکویڈر کے صدر رولڈوس کے جہاز کو بھی تباہ کیا گیا۔

اس سے قبل پچاس کی دہائی میں ملک ایران کے اندر ایک سی آئی اے ایجنٹ کے ذریعے خوب فساد رچایا گیا۔ اپنے رکن رکین کیلئے حالات سازگار کر دیئے گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ رضا شاہ پہلوی تخت نشین ہوئے۔شاہوں کے شاہ مرحوم امریکی محبت کے آخری حد تک اسیر تھے۔ ان کے جاری کردہ سفید اصلاحات براہ راست وائٹ ہاؤس سے متعارف تھے۔ جو ان کے خلاف انقلابی بغاوت کا سبب بنے۔

پھر ستر کی دہائی میں گواٹیمالا کے صدر اربنز (Arbenz) نے جب آزاد پالیسی اختیار کرنے کی رتی برابر کوشش کی تو ان کو بھی اس کے بدلے ہٹاکر قتل کیا گیا اور ایک کٹھ پتلی حکمران صدر بنا، جو اب ان کے حکم کی تعمیل میں کام کرے گا۔

جب سعودی تیل کے قدرتی ذخائر کی خبر مغرب میں گونج اٹھی، اور امریکی اثر ورسوخ نے اپنے پنجے گاڑ دیئے اور ملک متاثر ہونے لگا تو ایک امریکی آفیشل نے اس وقت کہا تھا:
"The cow we can milk, until the sun sets on our retirement”.

پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ بھی اس عمل تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے جہاز کو 80 کی دہائی میں حادثہ پیش آیا۔ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل نے اس واقعے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے اس کو بین الاقوامی سازش قرار دیا تھا۔ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو تاریخ پاکستان کا وہ باب جس نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف علم بلند کیا۔ ان کا نظریہ سوشلزم کس حد کارآمد رہا وہ الگ بات مگر وقت کے سپر نظام ہائے زندگی کے خلاف اور اسلامی تعاون تنظیم کی خاطر ان کی کوششیں تھی جو ان کو پھانسی کے پھندے تک لے گئی۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے عوامی قتل نے بھی عالمی رویئے پر ایسے ہی سوالیہ نشانات ثبت کئے تھے۔

اس اجارہ داری کی واضح اور متعین مثالیں دور جدید میں بھی موجود ہے۔ دو ہزار سولہ کو ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت کی کوشش کی گئی ۔ جس کو بعد ازاں عوام نے کچل دیا۔ اس بغاوت کی پشت پر بھی یہی عوامل کارفرما تھے۔

بات یہاں اختتام پذیر نہیں ہوتی معلوم نہیں اور کتنی مثالیں ہیں جوایسی پرفریب تاریخ کے اوراق میں موجود ہیں۔بیسویں صدی کے موافق یہ صدی بھی عالمی طاقتوں کی جانب سے ایسی دخل اندازیوں اور سازشوں سے لبریز ہیں۔ دو ہزار تین میں وینزویلا کے ہیگو چیوز کی حکومت کی یرغمالی سے لے کر دہشت گردی میں مبتلا پاکستان کی کمزوریوں سے استفادہ اور مذہبی گہما گہمی کی فضا میں لبرل حکمرانوں کے این آر او تک، کے پیچھے یہی عالمی سازشیں اپنے وسیع تر مفادات کی خاطر کام کرتی آ رہی ہیں ۔

یہ چند مثالیں بڑے امریکی بہادر کی اجارہ داری کی غماز ہیں ۔

پچھلا پڑھیں

صدر ایردوان کی استنبول میں "ینگ پروجیکٹس ان فاتح” کی تقریب میں شرکت

اگلا پڑھیں

مصر کا شہر قاہرہ 2022 میں مسلم دنیا کا ثقافتی دارالحکومت قرار

تبصرہ شامل کریں