برلن: عالمی خبر رساں ادارے ‘بلومبرگ’ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، جرمنی نے یورپ میں کسی بھی ممکنہ جنگی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی فوجی سپلائی لائنز اور دفاعی لاجسٹکس کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تاہم، ملک کا خستہ حال انفراسٹرکچر اور لاجسٹک مسائل اب بھی ان تیاریوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
بریمرہیون بندرگاہ کی اپ گریڈیشن اور اسٹریٹجک اہمیت
جرمنی کے 2026 کے بجٹ اور وسیع تر دفاعی حکمتِ عملی کے تحت، شمالی ساحلی شہر ‘بریمرہیون’ (Bremerhaven) میں واقع یورپ کی سب سے بڑی کار بندرگاہ کو 1.35 ارب یورو کی خطیر لاگت سے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

- مقصد: اس عظیم الشان منصوبے کا مقصد صرف تجارتی برآمدات بڑھانا نہیں ہے، بلکہ بندرگاہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہاں سے بھاری فوجی سازوسامان، بشمول 60 ٹن وزنی لیپرڈ (Leopard) ٹینک، بآسانی ممکنہ جنگی محاذوں تک منتقل کیے جا سکیں۔
- مرکزی کردار: جغرافیائی حیثیت اور صنعتی طاقت کی بدولت، جرمنی یورپ میں کسی بھی تنازع کی صورت میں نیٹو (NATO) کی فوجی رسد اور لاجسٹک سپورٹ میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
نجی شعبے کا تعاون: ایک ‘گیم چینجر’ اقدام
چونکہ جرمن فوج اکیلے اتنے بڑے پیمانے پر جنگی سپلائی کا نظام چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس لیے حکومت نجی شعبے کی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھا رہی ہے۔
- اس سلسلے میں ‘بی ایل جی لاجسٹکس’ (BLG Logistics) جیسی اہم کمپنیاں شامل کی جا رہی ہیں، جو بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی خدمات انجام دیتی ہیں۔
- کمپنی کے چیف ایگزیکٹو میتھیاس میگنور نے بندرگاہ میں حکومتی سرمایہ کاری کو اپنے لیے ایک “گیم چینجر” قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ فوجی لاجسٹکس سے متعلق حکومت کے ساتھ مثبت مذاکرات جاری ہیں اور رواں سال بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع ہونے کی قوی توقع ہے۔
انفراسٹرکچر کے سنگین مسائل اور چیلنجز
نجی کمپنیوں کی دلچسپی کے باوجود، جرمنی کو فوجی نقل و حرکت کے لیے کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے:

- خستہ حال پُل اور سڑکیں: رپورٹس کے مطابق، پورے جرمنی میں تقریباً پانچ ہزار پُل فوری مرمت کے محتاج ہیں۔
- ریلوے کا نظام: موجودہ ریلوے اور سڑکوں کا نیٹ ورک بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت اور نیٹو کے کسی ہنگامی آپریشن کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔
تاریخی پالیسی میں تبدیلی اور وزیرِ دفاع کا مؤقف
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جرمنی میں فوجی اور سول اداروں کے درمیان ایک واضح حد بندی قائم تھی۔ جرمن فوج “بنڈس ویئر” (Bundeswehr) کا اپنا الگ لاجسٹک نظام موجود تھا اور حساس فوجی سامان کی ترسیل صرف فوجی اہلکاروں کے ذمے تھی۔ تاہم، یورپ کی بدلتی سکیورٹی صورتحال نے اس روایتی پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے۔
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے 22 اپریل کو نئی دفاعی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے واضح کیا:
"ہم ایسے اقدامات شروع کر چکے ہیں جو ہماری دفاعی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ امن، آزادی اور خوشحالی کو اب خودکار طور پر یقینی نہیں سمجھا جا سکتا، ان کے تحفظ کے لیے مکمل تیاری ناگزیر ہے۔”
انتظامی رکاوٹیں اور کمپنیوں کے تحفظات
دفاعی بجٹ میں تیزی سے اضافے کے باوجود، پیچیدہ کاغذی کارروائیاں اور انتظامی رکاوٹیں ایک اور بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ کمپنیوں کو اپنے گوداموں، گاڑیوں اور عملے کی تمام تفصیلات حکومت کو فراہم کرنا پڑتی ہیں، لیکن بدلے میں انہیں واضح حکومتی معلومات اور رابطوں کی کمی کی شکایت ہے۔
جرمن لاجسٹکس تنظیم (DSLV) کے نائب ڈائریکٹر نیلز بیوک کے مطابق: "لاجسٹکس کا شعبہ فوج کے ساتھ تعاون میں بھرپور دلچسپی رکھتا ہے، لیکن ایک مؤثر اور پائیدار شراکت داری کے لیے نجی کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے بہتر معلومات، ہم آہنگی اور ایک واضح حکمتِ عملی درکار ہے۔”
