Turkiya-Logo-top

گیلی پولی ، وہ جنگ جس نے جدید ترکیہ کی بنیاد ڈالی

( رپورٹ: عباس میو )

چناق قلعہ (ترکیہ): وہ قومیں جو ایک صدی قبل ترکیہ کے جزیرہ نما گیلی پولی (Gallipoli) میں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں، آج اس تاریخی جنگ کی 111ویں برسی کے موقع پر ‘چناق قلعہ شہداء میموریل’ پر امن کے پیغام کے ساتھ دوبارہ اکٹھی ہوئی ہیں۔ ترکیہ سمیت ایک درجن سے زائد ممالک کے وفود نے 1915 میں اتحادی افواج کی لینڈنگ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔

یہ دن صرف پہلی جنگ عظیم کی ایک اہم مہم کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ جدید ترکیہ کے قیام کی اس بنیاد کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو انھی خندقوں میں رکھی گئی تھی۔

جنگ کا پسِ منظر اور برطانوی منصوبہ

گیلی پولی پر حملے کا ماسٹر مائنڈ اس وقت کے برطانوی نیوی کے سربراہ ونسٹن چرچل تھے۔ برطانیہ نے سلطنتِ عثمانیہ کے دو بحری جہاز (جو عثمانیوں نے برطانیہ سے تیار کروائے تھے) روک کر انہیں پہلی جنگ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

چرچل کا منصوبہ درہ دانیال (Dardanelles) پر کنٹرول حاصل کر کے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) پر قبضہ کرنا تھا، تاکہ عثمانی سلطنت کو جنگ سے باہر کیا جا سکے اور روس تک بحری راستہ کھولا جا سکے۔

18 مارچ کا بحری معرکہ اور سید علی چابک کی بہادری

18 مارچ 1915 کو اتحادی افواج کے بحری بیڑوں نے درہ دانیال عبور کرنے کی کوشش کی، مگر عثمانی توپ خانے اور بچھائی گئی بارودی سرنگوں نے انہیں بھاری نقصان اٹھا کر پسپائی پر مجبور کر دیا۔

  • تاریخی حقیقت: اس معرکے میں عثمانی سپاہی سید علی چابک (سید اونباشی) کی بہادری تاریخ کا حصہ بن گئی۔ انہوں نے کرین خراب ہونے پر انتہائی بھاری توپ کا گولہ (جس کا وزن تاریخی حوالوں کے مطابق تقریباً 215 اوقہ یا 275 کلوگرام تھا) خود اٹھا کر توپ میں لوڈ کیا اور برطانوی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا۔

زمینی کارروائی کا آغاز اور مصطفیٰ کمال اتاترک کا فیصلہ

بحری ناکامی کے بعد 25 اپریل 1915 کو اتحادی افواج (جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی ANZAC افواج نمایاں تھیں) نے سددالبحر، اریبورنو اور کوم قلعہ کے مقامات پر زمینی حملہ کر دیا۔

اس نازک موقع پر لیفٹیننٹ کرنل مصطفیٰ کمال اتاترک نے اپنی 19ویں ڈویژن کے ساتھ انتہائی غیر معمولی اور دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے اہم پہاڑی علاقوں (چونک بائر) کی جانب پیش قدمی کی۔

  • انہوں نے اپنی فوج کو گولہ بارود ختم ہونے کے باوجود سنگینوں سے لڑنے اور آخری سانس تک ڈٹے رہنے کا حکم دیا۔
  • اس جنگ میں ترک فوج کی 57ویں رجمنٹ نے اپنی جانوں کا مکمل نذرانہ پیش کیا، جسے آج بھی ترک فوج میں ایک انتہائی قابلِ احترام اور علامتی حیثیت حاصل ہے۔

خندقوں کی جنگ، جانی نقصان اور اتحادیوں کی پسپائی

یہ جنگ جلد ہی خندقوں کی جنگ (Trench Warfare) میں تبدیل ہو گئی۔ بیماریاں، سخت موسم اور خیموں کے خراب حالات نے دونوں اطراف کے فوجیوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔

  • جانی نقصان: نو ماہ تک جاری رہنے والی اس خونریز مہم میں دونوں جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 5 لاکھ سے زائد فوجی ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہوئے۔ (جن میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ اتحادی اور اتنے ہی عثمانی فوجی متاثر ہوئے)۔
  • پسپائی: بالآخر اکتوبر 1915 میں برطانوی وزیر جنگ لارڈ کشنر نے اعتراف کیا کہ کامیابی ممکن نہیں۔ جنوری 1916 میں اتحادی افواج نے ‘ڈمی سولجرز’ کا استعمال کرتے ہوئے اتنی خاموشی سے انخلا کیا کہ ان کے صرف دو فوجی زخمی ہوئے۔ اس شرمناک ناکامی کے بعد ونسٹن چرچل کو نیوی کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا۔

111 سال بعد: "اب جنگ نہیں، مکالمہ”

آج 111 سال بعد، چناق قلعہ کے گورنر عمر تورامان نے یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

"چناق قلعہ اب جنگ کا میدان نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی دشمن رہنے والے آج ایک ساتھ دوست بن کر کھڑے ہیں۔ یہ تاریخ ہمیں جنگ کے بجائے مکالمے کے فروغ کا اہم پیغام دیتی ہے۔”

تقریب میں شریک فرانسیسی نمائندے یانیق بوسو نے بھی اس بات کی تائید کی کہ یہ مقام مشترکہ تاریخ کے ایک دردناک باب کی یاد دلاتا ہے مگر آج ہم سب شراکت دار ہیں۔ گلی پولی کے اس تاریخی مقام کو اب دنیا کے سب سے بڑے "اوپن ایئر میوزیم” کا درجہ حاصل ہے، جہاں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں۔

تقریب کا اختتام ترک ایئر فورس کی مشہور ایروبٹک ٹیم ‘ترکش اسٹارز’ کے درہ دانیال کے اوپر شاندار فضائی مظاہرے سے ہوا، جس نے اس آسمان کو رنگوں سے بھر دیا جہاں کبھی جنگ کے بادل چھائے تھے۔

Read Previous

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا دورۂ چین: 75 سالہ سفارتی روابط، سی پیک اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

Read Next

اسلام آباد میں سفارتی ہلچل عروج پر: امریکی نمائندے بھی روانہ

Leave a Reply