turky-urdu-logo

امریکہ میں "ابو ایوانکا” کی آمد،افغانستان اور مشرق وسطی کا مستقبل کیا ہوگا؟

شبیر احمد یوسفزئی

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہوتے ہی عالمی مبصرین کے سامنے مشرق وسطی کے مستقبل سے متعلق انتہائی حل طلب سوالات محو رقص کرنے لگ گئے۔ اس کی پشت پر وجہ شاید ڈونلڈ ٹرمپ کا فاتحانہ خطاب ہے، جہاں انہوں نے جاری جنگوں کو بند کرنے کا پالیسی بیان دیا۔

افغانستان کے موضوع پر دلچسپی رکھنے کے باعث میرے سامنے یہ بھی سوال ہے کہ اس نازک ملک کا کیا بنے گا؟ کیونکہ، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سال دو ہزار بیس میں دوحہ معاہدے پر افغان طالبان کے ساتھ دستخط کیے تھے اور بیس سالہ جنگ کے خاتمے کا پلان ترتیب دیا تھا۔

فروری دو ہزار بیس میں قطر کے دار الحکومت دوحہ میں افغان طالبان رہنما ملا عبد الغنی برادر اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندے زلمے خلیل زاد نے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے پر مکمل عمل در آمد کیے بغیر امریکہ نے انتہائی عجلت میں یہاں سے راہ فرار اختیار کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی افواج کے انخلاء کے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس معاہدے کی رو سے امریکی افواج کا انخلاء سب سے آخری مشروط مرحلہ تھا۔ تاہم، بائیڈن انتظامیہ نے معاہدے کا پاس رکھے بغیر امریکی افواج کو چلتا کیا اور چند ناخوشگوار واقعات کا موجب بنے۔

دوحہ معاہدے میں کیا طے کیا گیا تھا؟

دوحہ معاہدے کے متن کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان پر طالبان کے اختیار کو تسلیم کرچکا تھا۔ گوں کہ معاہدے میں “امریکہ امارت اسلامیہ کو ریاست تسلیم نہیں کرتی” کا گردان اپنا وجود رکھتا ہے۔ چار صفحات پر مشتمل اس معاہدے کے کل چار حصے ہیں۔

پہلے حصے میں طالبان کو پابند کیا گیا کہ افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ دوسرے حصے میں امریکہ نے اپنے افواج کے انخلاء کا پورا پلان دیا کہ چودہ ماہ کے اندر یہ سارا عمل مکمل کردیا جائے گا۔ فروری دو ہزار بیس میں معاہدہ ہوا، اس حساب سے امریکی افواج کے انخلاء کی تاریخ مئی 2021 مقرر کی گئی۔

تیسرے حصے میں قیدیوں کے تبادلے اور رہائی کو انٹرا افغان مزاکرات سے مشروط کیا گیا۔ کہا گیا کہ معاہدے سے ٹھیک دس دن بعد طالبان دس مارچ 2020 کو اشرف غنی حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے۔ معاہدے کے مطابق دس مارچ دو ہزار بیس کو 5 ہزار طالبان اور 1 ہزار اشرف غنی حکومت کے اہلکار رہا ہوں گے۔

چوتھے حصے میں کہا گیا کہ انٹرا افغان مزاکرات کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، اس پر عمل در آمد کے طریقہ کار اور افغانستان کے سیاسی مستقبل کا لائحہ عمل طے ہوگا۔

دوحہ معاہدے پر عمل در آمد کس طرح نہیں ہوا؟

اس معاہدے کے کسی ایک حصے پر بھی اس طرح عمل نہیں ہوسکا تھا۔ وقت پر مزاکرات شروع ہوئے اور نہ ہی قیدیوں کی رہائی منصوبے کے مطابق ممکن ہوئی تھی۔ مزاکرات کے لیے قیدیوں کی رہائی ضروری تھی، تاہم اشرف غنی حکومت نے آخری چار سو طالبان قیدیوں کو ستمبر 2020 میں جا کر رہا کیا۔ لہذہ، اسی مہینے  سات ماہ کی تاخیر کے بعد قطر میں انٹرا افغان مزاکرات کا آغاز ہوا۔

ان مزاکرات سے کوئی خاطر خواہ اور مطلوب نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ افغان طالبان ایک ایک کر کے افغانستان کے مختلف علاقوں کا کنٹرول سنبھالتے گئے۔ امریکہ نے ستمبر 2021 انخلاء کی نئی تاریخ مقرر کی۔ تاہم، اگست 2021 میں وقت نے ایسی کروٹ لی کہ طالبان کابل میں داخل ہوئے اور امریکی جہاز نے کابل ائیرپورٹ سے اڑان بھری۔

اس معاہدے پر امریکہ کی طرف سے دستخط کنندہ زلمے خلیل نے ٹرمپ سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اس معاہدے  کو اپنی اصل حیثیت میں نافذ کرائیں گے۔

مشرق وسطی اور "ابو ایوانکا ” کی نو فلسطین پالیسی

مشرق وسطی کی صورتحال افغانستان سے قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ روز اول سے امریکہ اسرائیل کا معاون و مددگار رہا ہے۔ پچھتر  سال پہلے اسرائیل کے وجود میں آنے کے  گیارہ منٹ بعد امریکہ نے اس کو تسلیم کیا۔

1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کو خطرناک ہتھیار فراہم کیے۔ 1973 کے جنگ میں ریچرڈ نیکسن امریکہ کے صدر تھے اور انہوں نے اسرائیل کو تحفظ دینے کی وہ مثال قائم کی کہ اس کے بعد یہ سلسلہ وسیع ہوتا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلی حکومت میں انہوں نے جنگوں سے کنارہ کشی اختیار کی ۔افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا پلان، دوحہ معاہدہ اور “ابراہم ایکارڈ” سے وہ امن پالیسی کے لیے مشہور ہوئے۔

"ابراہم ایکارڈ”اور "جیرڈ کشنر” کے ارادے

ابراہم ایکارڈ اور مشرق وسطی پر ٹرمپ کی پالیسی کے ضامن ان کے داماد جیرڈ کشنر کا کردار بہت اہم ہے۔ جیرڈ کشنر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے شوہر ہے۔ اس وجہ سے عرب دنیا میں ٹرمپ “ابو ایوانکا” کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

جیرڈ کشنر عرب ممالک میں اپنا اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔ وہ پچھلی ٹرمپ انتظامیہ میں مشرق وسطی کے مشیر رہے۔ انہوں نے ابراہم ایکارڈ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد متحدہ عرب امارات، مراکش اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے۔

مستقبل قریب میں مشرق وسطی میں ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی بظاہر تو اس کی امن پالیسی اور ابراہم ایکارڈ کی تسلسل ہوگی، لیکن یہ درحقیقت فلسطینی کاز کی موت کا پروانہ ہوگا۔

ٹرمپ کی پچھلی حکومت کے خاتمے کے وقت آدھی سے زیادہ عرب دنیا اسرائیل کو تسلیم کرچکی تھی۔لہذہ، ٹرمپ جنگ بندی کے بعد عرب اسرائیل تعلقات بحال کریں گے۔اس صورتحال میں فلسطینیوں کی مزاحمت،  تاریخ اور زمین کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔

دو ہزار بیس میں ابراہم ایکارڈ کے اگلے دن جیرڈ کشنر میڈیا پر نمودار ہوئے اور کہنے لگیں کہ "یہ معاہدہ مشرق وسطی میں ایک نئے امن کے دور کا آغاز ہے”۔ ان سے پوچھا گیا کہ سالوں پر محیط حل طلب فلسطین اسرائیل تنازعے کا کیا ہوگا؟ اس نے جواب دیا کہ "یہ مسئلہ اتنا نہیں ہے، جتنا بنا دیا گیا ہے”۔

دوسری طرف جیرڈ کشنر نے ایک اور انٹرویو میں کہا ہے کہ "اگر غزہ میں لوگ کاروبار پر توجہ دیں تو وہاں کی واٹر فرنٹ پراپرٹی بہت قیمتی ہوسکتی ہے ۔ میں اسرائیلی نقطہ نظر سے اس بستی کو خالی کراؤں گا”۔

Read Previous

ترکیہ کی وزارت خارجہ کی کوئٹہ میں خود کش دھماکے کی مذمت

Read Next

زیرو ایمیشن کا عزم، ترکیہ نے کوپ 29 میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنا منصوبہ پیش کر دیا

Leave a Reply