ozIstanbul

ترکش لیرہ کی قیمت میں اُتار چڑھاو۔۔۔اسباب اور حل

تحریر:محمد نذیر خان

تُرکش لیرا آج کل شدید عدم استحکام کا شکار ہے، تُرکش صدر کی کل کی تقریر کے بعد اگرچہ لیرہ کی قیمت میں کچھ استقرار تو آیا ہے لیکن اس کو مستقل استحکام قرار نہیں دیا جاسکتا، البتہ یہ بات درست ہے کہ لیرہ کی اس گراوٹ کے پیچھے اقتصاد سے زیادہ سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔ اس معمہ کو سمجھنے سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی کرنسی چار چیزوں سے مستحکم ہوتی ہے۔

1۔(Export) بر آمدات
برآمدات (Export) یعنی اگر کسی ملک نے ایکسپورٹ زیادہ کیا ہو، اور اس کے مقابلہ میں امپورٹ کم ( یعنی دوسرے ممالک سے چیزیں کم خریدی ہوں تو اس سے ملک کی کرنسی پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ اور اقتصاد کی زبان میں اسے Current account surpluse سے تعبیر کیا جاتا ہےاور مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس ملک نے برآمدات کے مقابلہ میں درآمدات زیادہ کی ہیں لیکن اس کے برعکس اگر کسی ملک نے بر آمدات(Export) کے مقابلہ میں درآمد( import) زیادہ کیاہو، یا سادہ لفظوں میں دوسرے ممالک سے چیزیں یا خدمات زیادہ خریدی ہوں تو اس سے ملکی کرنسی پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ اقتصاد کی زبان میں اسے .current account deficit سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی اس ملک کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں جارہاہے۔

2 ۔ ترسیلِ زر یا زر مرسلہ .Remittances .اس سے مُراد وہ رقم ہے جو دوسرے ممالک میں کام کرنے والے لوگ اپنے گھر والوں کو بھیجتے ہیں، اس سے بھی ملکی کرنسی پر اچھا اثر پڑتا پے۔

3۔ بیرونی سرمایہ کاری۔ Foreign investment اس مراد وہ رقم ہے جو دوسرے ممالک نے مختلف تجارتوں یا پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کی ہو۔

4۔ سیاحت Tourism کرنسی کو قوت بخشنے والی چوتھی چیز سیاحت ہے، جس نہ صرف ملکی کاروبار پھلتا اپھولتا ہے بلکہ اس کی کرنسی کو بھی تقویت ملتی ہے۔

اب اگر ان چار عوامل کی روشنی میں ترکش اکانومی کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ترکی نے گذشتہ سالوں میں ایکسپورٹ کے مقابلہ میں امپورٹ زیادہ کیاتھا، لیکن گذشتہ تین ماہ سے ترکش ایکسپورٹ کو پر لگے ہوئے ہیں چنانچہ گذشتہ سال اکتوبر میں کرنٹ اکاونٹ 0.09 خسارہ کے مقابلہ میں اس سال ترکی نے 3.16 بلین ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ سرپلس ریکارڈ کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمومی طور پر جو کرسنی کی سب سے بڑی وجہ قراردی جاتی ہے کم از کم وہ موجود نہیں۔ مزید تفصیلات یہاں سے دیکھی جاسکتی ہیں۔ صرف تین اسلامی ممالک کو اکتوبر کے مہینہ میں ترکش بر آمدات کی ایک مختصر سی جھلک یہ ہے
مصر 299493.46 323637.36 دولار أمريكي THO أكتوبر / 21
مراکش 238037.02 322842.80 USD THO أكتوبر / 21
لبنان 196008.65 131266.40 USD THO أكتوبر / 21https://tradingeconomics.com/
https://data.tuik.gov.tr/Search/Search?text=export

جہاں تک دوسرے سبب ترسیلِ زر یا زر مرسلہ Remittances کا تعلق ہے تویہ عامل کمزور ہے، کیونکہ بیرون ممالک روزگار کی تلاش میں جانے میں ترکش لوگوں کی تعداد انڈیا، پاکستان، مصر، اور بنگلہ دیش وغیرہ جیسے ملکوں کے مقابلہ میں کم ہے اس لئے ترسیل زر کے سلسلہ میں ترکش اکانومی کو کسی خاطر خواہ فائدہ کا دعوی نہیں کیا جاسکتا۔

باقی اگر تیسرے عنصر بیرونی سرمایہ کاری۔ Foreign investment کو دیکھا جائے تو اس سلسلہ میں بھی ترکی میں بیرونی سرمایہ کاری کی مقدار بھی تقریبااچھی ہے۔ چنانچہ ٹریڈنگ اکانومکس کے مطابق رواں سال ترکی میں 264 ملین ڈالر کی ڈائریکٹ فارن انسویسٹمنٹ کی گئ ہے۔

اس سلسلہ کا آخری عنصر سیاحت Tourism پر نظر ڈالیں تو بھی ترکی کی آمدن حوصلہ افزا نظر آتی ہے۔ مثلا ترکش سٹیٹ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے شروع کے نو ماہ کے دوران نے ترکی نے سیاحت کے سیکٹر میں $16.8 بلین ڈالر کمائے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ترکش لیرہ رو بہ زوال کیوں ہے؟

اس کی بظاہر دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔

۱۔ بیرونی سیاسی مداخلت۔ اکنامکس اورسیاست دوجڑواں بھائی ہیں یا ایک ہی سکہ کے دو رخ ، کیونکہ جس طرح مضبوط اکانومی کیلئے مضبوط سیاسی ڈھانچہ اور قوت لازمی ہے اسی طرح ملکی سیاسی استحکام بھی جب ہی آسکتا ہے جب ملک اقتصادی طور پر خود کفیل ہو۔ کیونکہ انگریزی زبان کا مشہور مقولہ ہے کہ Beggars can’t be choosers۔ جس شخص کا گذر بسر دوسروں کی سخاوت پر ہو، اس کا کوئی مقام ومرتبہ نہیں ہوتا۔ اور فارسی میں کہا جاتاہے ھر کہ نان دھد او فرمان دھد۔ جو روٹی دیتا ہے حکم بھی وہی دیتا ہے۔ اس لئے تمام اسلامی ممالک کو اس بارے سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اورجہاں ان ممالک کا بس نہیں چلتا وہاں یہ حریف ممالک اپنی پالیسی مسلط کرنے کیلئے براہِ راست یا بلواسطہ پابندیاں لگاتے ہیں اور میڈیا پر مختلف طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی کرنسی شدید متاثر ہوجاتی ہے۔

تٔرکی کے دفاعی صنعت میں ترقی، علاقائی قوتوں بالخصوص روس سے اچھا تعلق، بحر اسود میں گیس کی تلاش، مشرق وسطی میں کے معاملات میں مضبوط موقف اور وجود سے طاقتور ممالک سخت نالاں ہیں، اور ان کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ اگر اس بار بھی موجود پارٹی الیکشن جیت جاتی ہے تو پھر مستقبل میں تٔرکی کو قابو کرنا بہت مشکل ہو جائے گا اس لئے وہ حکومت کو گرانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور کریں گے۔

۲۔ انتخابات کاقریب ہونا۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی انتخابات کا قریب آنا ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتاہے چاجائیکہ ترقی پذیر ممالک، اس لئے انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف ملکوں کی کرنسیوں میں اتار چڑھاو آجاتاہے۔ کیونکہ سرمایہ کار آنیوالی گورنمنٹ کی پالیسیوں کو اچھی طرح دیکھ بھال کر ہی انویسٹمنٹ کرتے ہیں۔

ترکی کیا کرے؟

1۔ سود کی شرح ممکنہ حد تک کم کی جائے، اس سے یہ ہوگا کہ لوگ بینکوں سے اپنی رقم نکال کر حقیقی اقتصادی سرگرمیوں میں انویسٹ کریں گے، ورنہ ہر شخص گھر بیٹھے ماہانہ سود لینے پر اکتفا کرے گا اور اس سے قومی طور پر
rent-seeking behavior
(گھر بیٹھے کمانے کا رویہ) کا شکار ہوجائے گی۔

-2. ان فیکٹریوں پرزیادہ توجہ دی جائے جو ضروری پیداوار تیار کرتی ہیں، خاص طور پر جنہیں بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے مثلا گاڑیاں وغیرہ ۔ ایک رپورت کے مطابق 20,905,787 کے قریب چھوٹی بڑی گاڑیاں ترکش سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کوئی ایک بھی مکمل طقر پر کسی اسلامی ملک کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔

-3اجرت میں اضافہ ۔ تنخواہوں اور یومیہ اجرت میں معقول اضافہ کرے تاکہ لوگ اس مشکل مرحلہ سے گذر سکیں ۔

4۔ ملک کو export-oriented بنانے کیلئے طویل المدتی پالیسیاں بنائی جائیں، تاکہ آئندہ کیلئے ڈالر کے کھیل کی وجہ سے ملکی اکانومی پر کوئی خاص اثر نہ پڑے۔ اس میدان میں ترکی کے ہتھیاروں بالخصوص ڈرونز نے ایک عمدہ مرحلہ طے کرلیا ہے، حتیٰ کہ بعض یورپی ممالک بھی انہیں ترکی سے خریدنے پر مجبور ہوئےہیں۔

5۔ لوکل کرنسی میں تجارت۔

۱۹۴۵ کے بعد جب سے بین الاقوامی تجارت کو ڈالر سے جوڑا گیا ہے، اس وقت سے دنیا کی تین بڑی تجارتیں پٹرول، اسلحہ اور ادویات ڈالر میں کی جاتی ہے۔ اوردنیا پر یہ طریقہ تقریبا زبردستی مسلط کیا گیاہے۔ اس لئے ترکی سمیت دیگر وہ ممالک جن کو ڈالر بیسڈ کپیٹلزم سے مسلسل معاشی، سیاسی اور سماجی نقصانات اٹھانا پڑ رہاہے کو ہمت کرکے اپنی تجارتیں اپنی لوکل کرنسیوں میں کرنی پڑے گی۔ اگرچہ یہ کام اتنا آسان نہیں لیکن اتنا مشکل بھی نہیں، چائنہ اور روس کا اس سلسلہ میں Non-dollar trade settlements ایک اہم اقدام ہے۔
6۔ منی ایکسچینج کے کاروبار پر سختی کی جائے۔ موجودہ ورچول اکانومی کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس میں حقیقی تجارت اور اثاثوں کے مقابلہ میں ورچول اور فرضی تجارت کا حجم بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، جو کسی بھی وقت ایک نئے مالی طوفان کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اکانومی کی زبان میں اسے فائنانشلائزیشن Financialization کہا جاتاہے۔ اس موضوع پر Makers and Takers, Profiting Without Producing: How Finance Exploits Us All, The Value of Everything جیسی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کسی اور موقع کیلئے اٹھا رکھتے ہیں، تاہم یہاں صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ انٹرنیٹ پر کرنسی بیٹنگ، فوریکس ، سی ایف ڈیز، سمیت ایسی کئی ٹرانزیکشنز ٓچکی ہیں کہ ان میں جوا اور سپیکولیشن کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے ترکی کو چاہیئے ایک مختصر پیریڈ کیلئے ہی سہی کرنسی کی خرید وفروخت کیلئے ایک حد مقرر کی جائے مثلا ۵۰۰ ڈالر سے زیادہ کرنسی کی خرید وفروخت پر پابندی لگائی جائے یا سخت شرائط عائد کرلی جائیں۔
۷۔ کینال استنبول۔ ترکی کے پاس بیرونی سرمایہ کروں کو متوجہ کرنے کے بہت مواقع موجود ہیں۔ اس لئے ترکی کینال استنبول کیلئے صکوک جاری کرکے اسے بین الاقوامی صکوک مارکیٹ میں ڈالدے، تو اس کے ذریعہ امید کی جاتی ہے ترکی پوری دنیا سے سرمایہ کاروں کو کھینچ لانے میں کامیاب ہوگا۔

پچھلا پڑھیں

استنبول ائیرپورٹ سے امریکی سفارتکار جعلی پاسپورٹ جاری کرنےکے الزام میں گرفتار

اگلا پڑھیں

سلامتی کونسل نے افغانستان کو امداد فراہم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے