انقرہ: ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں قرآنِ کریم کے بین الاقوامی مقابلے کی ایک انتہائی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور کامیاب امیدواروں میں انعامات تقسیم کیے۔
یہ روحانی اور عالمی تقریب ‘بین الاقوامی حفظِ قرآن و حسنِ قرأت مقابلہ’ کے سلسلے میں ترکیہ کے صدارتی کمپلیکس میں واقع بش تپے نیشنز کنونشن اینڈ کلچر سینٹر میں منعقد کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور عالمی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
"امتِ مسلمہ ایک انتہائی کٹھن دور سے گزر رہی ہے”
تقریب کے شرکاء اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ اس وقت پوری امتِ مسلمہ ایک انتہائی مشکل اور کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مختلف خطوں میں جاری بحرانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا:
- فلسطین اور لبنان: ان خطوں میں مسلسل کشیدگی اور معصوم شہریوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
- دیگر متاثرہ خطے: سوڈان، صومالیہ، یمن اور خلیجی خطے کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں نہتے شہریوں اور معصوم بچوں پر سنگین مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی منافقت
صدر ایردوان نے عالمی طاقتوں کی دوغلی پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"دنیا میں انصاف، مساوات اور انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے عناصر کی اصل حقیقت آج پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ ان مشکل ترین حالات میں وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ظلم کو روکنے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔”
مسائل کا واحد حل: قرآن و سنت اور باہمی اتحاد
موجودہ عالمی چیلنجز کا حل پیش کرتے ہوئے صدر ایردوان نے مسلم امہ کو یکجہتی کا پیغام دیا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل تھے:
- قرآن و سنت سے وابستگی: ان کٹھن حالات میں مسلمانوں کے لیے کامیابی اور بقا کا واحد راستہ قرآنِ پاک اور سنتِ نبویﷺ سے مضبوطی سے وابستہ رہنا ہے۔
- اختلافات کا خاتمہ: مسلمانوں کو اپنے فروعی اور مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔
- مضبوط وحدت: امت کو چاہیے کہ وہ باہمی اعتماد، بھائی چارے اور تعاون کے ذریعے ایک مضبوط وحدت اور طاقت کا مظاہرہ کرے۔
مستقبل کے لیے اُمید کا پیغام: اپنے بصیرت افروز خطاب کے اختتام پر صدر ایردوان نے ایک روشن مستقبل کی امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امتِ مسلمہ صبر، اتحاد اور باہمی تعاون کا دامن تھامے رکھے، تو یقیناً ایک ایسا پُرامن مستقبل تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر قسم کے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ہو اور پوری انسانیت کو حقیقی سکون نص
