Turkiya-Logo-top

ترکیہ میں اسکول حملے: "نئی نسل کو انتشار سے بچانے کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا” – صدر ایردوان

نئی نسل کو انتشار سے بچانے کے لیے تعلیمی اداروں ،

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کابینہ اجلاس کے بعد کہرامان ماراش اور شانلی عرفہ میں ہونے والے اسکول حملوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئی نسل کو انتشار اور تباہی سے بچانے کے لیے تعلیمی اداروں، والدین اور میڈیا کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ مضبوط خاندانی نظام ہی معاشرے کو محفوظ بنانے کی واحد ضمانت ہے۔

معاشرے میں خوف پھیلانے کی سازش

صدر ایردوان نے واضح کیا کہ اسکولوں پر ہونے والے یہ حملے محض جان لینے کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ ان کا اصل ہدف معاشرتی ڈھانچے کو ہلانا اور عوام میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا پیدا کرنا ہے۔ پوری ترک قوم اس وقت ان واقعات پر سوگوار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ میڈیا کی جانب سے ایسے واقعات کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

ڈیجیٹل دور کے تباہ کن اثرات اور خاندانی نظام کی اہمیت

اپنے خطاب میں صدر ترکیہ نے ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی رجحانات پر کڑی تنقید کی اور چند اہم نکات کی نشاندہی کی:

  • اسکرین کا بڑھتا استعمال: آج کے بچے اپنے والدین سے زیادہ وقت سوشل میڈیا اور اسکرینز کے ساتھ گزار رہے ہیں، جو ان کی اخلاقی اور ذہنی نشوونما کو تباہ کر رہا ہے۔
  • خاندان بطور پہلی درسگاہ: خاندان انسان کی سب سے پہلی درسگاہ ہے۔ اگر بچوں کو گھر سے محبت، ہمدردی اور اخلاقی اقدار نہیں ملیں گی، تو معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو جائے گا۔ حکومت خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے جامع پالیسیوں پر کام کر رہی ہے۔

میڈیا اور تفریحی صنعت پر کڑی تنقید

صدر ایردوان نے ڈرامہ اور فلم انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔

"ایسے ڈرامے اور پروگرام جو تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور مجرموں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں میں زہر گھول رہے ہیں۔ خبروں میں جرائم کی سنسنی خیز تفصیلات دکھانے سے جرائم کی نقل (Copycat crimes) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔”

حکومت کا جامع ایکشن پلان اور سخت وارننگ

حکومت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صرف سیکیورٹی ہی نہیں، بلکہ سماجی اور نفسیاتی سطح پر بھی اقدامات کا اعلان کیا ہے:

  • سوشل میڈیا پر سخت ضوابط: آن لائن مواد کی نگرانی کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
  • اسلحہ کنٹرول پر زیرو ٹالرنس: صدر ایردوان نے سخت وارننگ دی کہ اگر کسی بچے کے ہاتھ اسلحہ لگا، تو اس کے ذمہ دار افراد (والدین یا سرپرستوں) کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔
  • سائبر سکیورٹی اور اداروں کا تعاون: اسکولوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تعلیمی انتظامیہ کے درمیان روابط کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

Read Previous

پاکستان کو ‘ترک ریاستوں کی تنظیم’ کا مکمل رکن بنایا جائے: ترک رکن پارلیمنٹ کی تاریخی اپیل

Read Next

ترکیہ کا عظیم بحری منصوبہ: TCG Anadolu سے بھی بڑا طیارہ بردار جہاز 2027 میں لانچ کے لیے تیار

Leave a Reply