Turkiya-Logo-top

صدر ایردوان کا "یوم یورپ” کے موقع پر پیغام: "یورپی یونین کو ترکیہ کی ضرورت ہے”

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے 9 مئی "یومِ یورپ” (Europe Day) کے موقع پر ایک خصوصی اور دو ٹوک پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ترکیہ اور یورپی یونین کے تعلقات، علاقائی استحکام اور عالمی سیاست کے تناظر میں انتہائی اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے۔

یورپ کو درپیش موجودہ خطرات اور شومن ڈیکلریشن

ایوانِ صدر کے ڈائریکٹوریٹ برائے اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ‘شومن ڈیکلریشن’ (Schuman Declaration)—جس نے آج سے 76 برس قبل یورپی یونین کی بنیاد رکھی—امن، شراکت داری اور باہمی احترام کی ایک عظیم علامت تھا۔

تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ آج کا یورپ کئی بڑے خطرات کی زد میں ہے:

  • عالمی سطح پر اثرات مرتب کرنے والی تباہ کن جنگیں۔
  • گہرے سیاسی بحران اور شدید معاشی مسائل۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مسائل یورپی اتحاد کی بنیادوں کو مسلسل کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ان کے مستقل حل کے لیے یورپی یونین کو مزید جامع، حقیقت پسندانہ اور متحد پالیسیوں کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔

"ترکیہ کے بغیر یورپی یونین نامکمل ہے”

صدر ایردوان نے ایک بار پھر اس بات پر بھرپور زور دیا کہ ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت محض ترکیہ کا فائدہ نہیں، بلکہ خود یورپی یونین کی بقا اور مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔

  • انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کے بغیر یورپی یونین ایک "نامکمل” قوت رہے گی اور اسے مستقبل کے عالمی بحرانوں سے نپٹنے کے لیے شدید کمزوری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  • ان کا دو ٹوک الفاظ میں کہنا تھا: "جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرتے آئے ہیں، ترکیہ کو یورپی یونین کی ضرورت سے زیادہ، یونین کو ترکیہ کی ضرورت ہے، اور یہ ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جائے گی۔”

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یورپی یونین مستقبل میں ایسے تمام اقدامات سے گریز کرے گی جو ترکیہ کے ساتھ تعلقات میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔

سفارتی پیغام اور ‘الارم’

سفارتی مبصرین کے مطابق، صدر ایردوان کا یہ پیغام ایک طرف تہنیتی ہے تو دوسری طرف یورپی یونین کے لیے ایک "الارم” بھی ہے۔ انہوں نے یورپی قیادت کو باور کرایا ہے کہ یونین ایک موثر عالمی کھلاڑی تب ہی بن سکتی ہے جب وہ اپنے اندرونی تعصبات کو ختم کر کے ترکیہ جیسے اہم اسٹریٹجک ملک کو برابری کی بنیاد پر ساتھ لے کر چلے۔ یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ ترکیہ اب بھی یورپی یونین کا حصہ بننے کے عزم پر سختی سے قائم ہے، لیکن وہ اپنی خود مختاری، قومی وقار اور علاقائی اہمیت پر ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یورپی کمیشن کی صدر کا حالیہ متنازع بیان اور پس منظر

یاد رہے کہ یہ پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن (Ursula von der Leyen) نے ایک متنازع بیان میں ترکیہ کو روس اور چین سے تشبیہ دیتے ہوئے اسے یورپ کے لیے ایک ‘خطرہ اور رقیب’ قرار دیا تھا۔ اس بیان کے باعث ترکیہ اور یورپی یونین کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ ترکیہ کی اعلیٰ قیادت اور عوام کی جانب سے سخت ردعمل اور احتجاج کے بعد، یورپی یونین کو باقاعدہ ایک وضاحتی بیان جاری کر کے اس پر معذرت کرنا پڑی تھی۔

Read Previous

ملکہِ بیلجیئم کا 450 رکنی کاروباری وفد کے ہمراہ دورہِ ترکیہ: پہلے روز مقامی طور پر تیار کردہ ڈرون ٹیکنالوجی کا معائنہ کیا

Read Next

ترکیہ کی سپر لیگ: گلاٹا سرائے فٹبال کلب کی شاندار فتح، صدر ایردوان کی مبارکباد

Leave a Reply