صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ شب دسویں قومی عزم افطار اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان میں اہلِ غزہ و اہلِ شام کے لیے یکجہتی کا پیغام دیا۔
صدر ایردوان نے کہا کہ دنیا کے تمام سمندر نیلے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، جب 6 سال سے کم عمر کی بچیاں 335 گولیوں سے ماری جاتی ہوں۔ اس جملے میں صدر ایردوان کا اشارہ، سن 2024 میں غزہ میں ظالم اسرائیل فورسز کی طرف سے 335 گولیوں کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کرنے والی پانچ سالہ ھِند رجب کی طرف تھا۔
صدر ایردوان نے اپنے بیان میں یہ بھی شامل کیا کہ کچھ ممالک نے ظلم اور نسل کشی کو نظر انداز کیا، جبکہ کچھ ممالک نے اسرائیل جیسے نسل کشی کرنے والے ممالک کی حمایت بھی کی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ غزہ اور شام کے ہزاروں بچوں کے المیے کو جن کے خاندان مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے، اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی مجازی دنیا کے جھوٹے ضمیر کی بدولت ایک پینگوئن کو اپنے ریوڑ سے الگ ہونے پر دی گئی۔ صدر ایردوان کا اشارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پینگوئن کی وڈیو کی طرف تھا۔
صدر ایردوان نے کل کے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جو اخلاقی گرہن کا شکار ہے، ہم بطور ترکیہ، مل کر انسانیت کا ضمیر بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تُرک صدر نے اپنے بارے میں یہ بولا کہ جب تک اس جسم میں یہ جان ہے، ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ہم ظلم سے دستبردار نہیں ہوں گے، دباؤ کے سامنے ہم نہ ڈریں گے اور نہ ہی خاموش رہیں گے۔
صدر ایردوان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی شامل کیا کہ مٹھی بھر باضمیر اور دلیر ممالک، اداروں اور تنظیموں کے علاوہ، تقریباً کسی نے بھی ہمارے جغرافیہ میں ہونے والے ظلم پر ردعمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی انہیں روکنے کی کوشش کی
