Turkiya-Logo-top

حجاب کی جیت۔۔ امینہ ایردوآن کا سفرِ عزت ..

انقرہ سے شبانہ ایاز کی خصوصی تحریر ۔

ذرا ایک منظر کا تصور کیجیے۔

سن 2004… استنبول میں نیٹو سربراہی اجلاس جاری ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے سربراہ ایک ہی چھت تلے جمع ہیں، مگر میزبان ملک کے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی اہلیہ امینہ ایردوآن اس تاریخی موقع پر موجود نہیں۔ ان کی غیر موجودگی کی وجہ نہ کوئی بیماری تھی، نہ کوئی سفارتی مصروفیت اور نہ ہی کوئی ذاتی مجبوری۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ وہ ایک باحجاب خاتون تھیں۔

وقت گزرا… پورے بائیس برس بیت گئے۔

پھر جولائی 2026 میں تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا جس کا شاید دو دہائیاں پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ اس بار نیٹو کا سربراہی اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوا۔
وہی با حجاب امینہ ایردوآن عالمی رہنماؤں کی شریکِ حیات کا استقبال کر رہی تھیں،
انہوں نے نیٹو رہنماؤں کی شریکِ حیات کے لیے Cankaya Palace میں خصوصی استقبالیہ اور ڈنر کی میزبانی کی۔ سب سے اہم بات، انہوں نے بچوں پر ٹیکنالوجی کے اثرات کے موضوع پر خواتینِ اول کی متوازی کانفرنس کی صدارت کی۔ دنیا بھر کی خاتونِ اول ان کے گرد بیٹھیں، ترک روایات سنیں اور خاندانی اقدار پر بات کی۔

امینہ ایردوآن ہر سرکاری تقریبات کی میزبان تھیں، بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز تھیں اور اعتماد و وقار کے ساتھ ترکیہ کی نمائندگی کر رہی تھیں۔

یہ صرف ایک خاتون کی کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک طویل سماجی سفر، ایک نظریاتی تبدیلی اور اس سوچ کی علامت تھی جسے آج بہت سے ترک شہری ایک ہی جملے میں بیان کرتے ہیں۔۔۔

"یہ حجاب کی جیت تھی۔”

ترکیہ کی جدید تاریخ میں حجاب صرف لباس کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ شناخت، مذہبی آزادی اور سماجی قبولیت کی بحث کا بھی حصہ رہا ہے۔ جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد ریاست نے خود کو سخت سیکولر اصولوں کے مطابق تشکیل دیا۔ اگرچہ عام شہریوں کے لیے حجاب پر ملک گیر پابندی نہیں تھی، لیکن کئی سرکاری اداروں، جامعات، عدالتوں اور سرکاری ملازمتوں میں باحجاب خواتین کو عملی رکاوٹوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بہت سی طالبات کو یا تو حجاب اتارنا پڑتا یا تعلیم چھوڑنی پڑتی، جبکہ سرکاری ملازمت کے خواہش مند افراد کے لیے بھی یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔

سن 2002 میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AK Parti) اقتدار میں آئی تو ترکیہ ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوا۔ رجب طیب ایردوآن نے معاشی استحکام، جمہوری اصلاحات اور عوامی نمائندگی کو اپنی ترجیحات بنایا، لیکن مذہبی آزادیوں سے متعلق تبدیلیاں فوری طور پر ممکن نہیں تھیں۔ اس وقت ریاستی اداروں میں برسوں سے قائم روایات اور حساس سیاسی ماحول موجود تھا، جس کے باعث کئی معاملات بتدریج آگے بڑھے۔

اسی پس منظر میں 2004 کا نیٹو سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس دور میں امینہ ایردوآن کا بعض سرکاری تقریبات میں شریک نہ ہونا بہت سے ترک شہریوں کے لیے اس دور کی ریاستی سوچ کی علامت بن گیا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مختلف آراء سامنے آئیں، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس زمانے میں باحجاب خواتین کو سرکاری سطح پر متعدد رکاوٹوں کا سامنا تھا۔

امینہ ایردوآن نے کبھی اس معاملے کو تلخ سیاسی بیانیہ نہیں بنایا۔ انہوں نے خاموشی، وقار اور صبر کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا۔ یہی خاموشی بعد میں ان کی شخصیت کی طاقت بن گئی۔ انہوں نے سماجی بہبود، خواتین کی فلاح، ماحولیات، یتیم بچوں، تعلیم اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ ان کی شخصیت رفتہ رفتہ ترکیہ کی نرم قوت (Soft Power) کی ایک اہم علامت بنتی گئی۔

گزشتہ دو دہائیوں میں ترکیہ میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ مختلف قانونی اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری اداروں میں حجاب سے متعلق بہت سی پابندیاں ختم ہوئیں۔ آج باحجاب خواتین پارلیمنٹ، جامعات، عدلیہ، سفارت کاری، صحت، تعلیم، کاروبار اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف قانون کی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کی بھی عکاس ہے۔

اسی دوران ترکیہ نے دفاع، معیشت، سفارت کاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کی۔ مقامی دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام اور جدید تحقیق نے ترکیہ کو عالمی سطح پر ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر نمایاں کیا۔ بین الاقوامی فورمز پر بھی ترکیہ کا کردار پہلے سے زیادہ فعال دکھائی دینے لگا۔

جولائی 2026 میں انقرہ میں منعقد ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اسی تبدیلی کی ایک نمایاں جھلک تھا۔ دنیا بھر سے آنے والے رہنماؤں اور ان کی شریکِ حیات کا استقبال ایک ایسی باحجاب خاتون کر رہی تھیں، جنہیں دو دہائیاں پہلے ایسے ہی ماحول میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امینہ ایردوآن نے خواتینِ اول کے خصوصی پروگراموں میں شرکت کی، سماجی موضوعات پر گفتگو کی اور ترکیہ کی میزبانی کو وقار کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

یہ منظر اس لیے بھی اہم تھا کہ اس نے یہ پیغام دیا کہ جدید ریاست اور مذہبی شناخت ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہوتیں۔ ایک خاتون اپنے عقیدے، لباس اور وقار کے ساتھ بھی عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ شخصیت کی اصل طاقت اس کے کردار، علم، اعتماد اور خدمت میں ہوتی ہے، نہ کہ اس کے ظاہری انداز میں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ترکیہ آج بھی مختلف سیاسی اور فکری آراء رکھنے والا ایک متحرک جمہوری معاشرہ ہے۔ سیکولرزم، مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور ریاست کے کردار پر بحث آج بھی جاری رہتی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ آج باحجاب خواتین کے لیے مواقع ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہیں، اور یہی تبدیلی ترکیہ کے سماجی ارتقا کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔

اس پوری داستان کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس میں انتقام نہیں بلکہ صبر کی فتح نظر آتی ہے۔ امینہ ایردوآن نے اپنے ناقدین کے خلاف سخت زبان استعمال نہیں کی، بلکہ اپنے کردار اور خدمات سے یہ ثابت کیا کہ وقار ہمیشہ شور سے نہیں بلکہ خاموش استقامت سے حاصل ہوتا ہے۔

یہ کہانی پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا کی خواتین کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہے۔ ہماری بیٹیوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی اصل طاقت ان کی تعلیم، کردار، خود اعتمادی اور اقدار میں ہے۔ اگر وہ حجاب اختیار کرتی ہیں تو وہ اسے احساسِ کمتری کے ساتھ نہیں بلکہ عزت اور اعتماد کے ساتھ اختیار کریں۔ اسی طرح ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو ان کی صلاحیت، کردار اور خدمات کی بنیاد پر پہچانے، نہ کہ صرف ان کے لباس کی بنیاد پر۔

بعض اوقات تاریخ ایک تصویر میں سمٹ آتی ہے۔ 2004 کی ایک تصویر میں ایک باحجاب خاتون سرکاری تقریب سے دور دکھائی دیتی ہے، جبکہ 2026 کی دوسری تصویر میں وہی خاتون دنیا کے طاقتور رہنماؤں کی میزبانی کر رہی ہے۔ ان دونوں تصویروں کے درمیان صرف بائیس سال نہیں بلکہ ایک پورا سماجی سفر، ایک سیاسی تبدیلی اور ایک قوم کی بدلتی ہوئی سوچ موجود ہے۔

شاید اسی لیے آج بہت سے ترک شہری کہتے ہیں کہ یہ صرف امینہ ایردوآن کی کامیابی نہیں، بلکہ حجاب کی عزت، خواتین کے وقار اور اپنی شناخت پر قائم رہنے کی جیت ہے۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ اگر اصول، صبر اور اعتماد ساتھ ہوں تو وقت خود گواہی دیتا ہے کہ عزت کسی انسان سے چھینی نہیں جا سکتی، صرف کچھ عرصے کے لیے روکی جا سکتی ہے۔ اور جب وہ عزت واپس آتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیتی ہے۔

Read Previous

ترک شہداء کی یاد میں ٹِکا کا اسلام آباد کے انقرہ پارک کو 500 پودوں کا تحفہ

Leave a Reply