ozIstanbul

ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے زیر اہتمام دستاویزی فلموں کے ایوارڈز تقریب

ترکش ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن (TRT) کے زیر اہتمام  اس سال 13ویں بار منعقد ہونے وا لا "بین الاقوامی ٹی آر ٹی  دستاویزی ایوارڈز” ٹی آر ٹی  استنبول تپے باشی  اسٹوڈیوز میں ایوارڈ کی تقریب کے ساتھ  اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

اس تقریب میں  قومی اور بین الاقوامی دستاویزی فلموں کی نمائش کی گئی جس میں  بڑی تعداد میں  اپنے اپنے شعبوں  میں ماہر  مہمانوں نے  شرکت  کی۔

ثقافت اور سیاحت کے امور  کے  نائب وزیر احمد مصباح  دیمر جان ، ٹی آر ٹی  کے ڈائریکٹر  جنرل  مہمت زاہد سوبا جی ، ٹی آر ٹی   کے ایگزیکٹوز، پریس کے اراکین اور ترکی اور عالمی سنیما سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے تقریب میں شرکت کی۔

ٹی آر ٹی  کے ڈائریکٹر  جنرل  مہمت زاہد سوبا جی نے اپنی افتتاحی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ انسانی ذہن اور دل کو متحرک رکھنے والی دستاویزی فلمیں سماجی معنوں میں ثقافتی تنوع کو سمجھنے اور دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھنے کے لحاظ سے قابل قدر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "آج، واحد مواد جس میں ہم پوری طرح سے عالمی ناانصافی کو دیکھ سکتے ہیں وہ دستاویزی فلمیں ہیں۔ جب کہ ہمارا ملک عالمی انصاف کے لیے لڑ رہا ہے، ہم اپنی دستاویزی فلموں کے ذریعے ان ناانصافیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں جن کا دنیا کو کل اور آج سامنا کرنا پڑا، اور انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  2021 کے ایوارڈز، جو گزشتہ سال کووِڈ-19 کی وبا کی وجہ سے ملتوی کیے گئے تھے، اس سال  منعقد کرتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں سے بہت قیمتی دستاویزی فلموں کی میزبانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "دو سالوں میں ہمیں موصول ہونے والی 2,618 درخواستیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ہمارے ایونٹ کو عالمی سطح پر  بڑی پذیرائی ملی ہے۔

مقابلے میں ایوارڈ یافتہ فلموں کا انتخاب جیوری کے اراکین نے کیا، جن میں فیراس فیاض، ہلال بیداروف، اینسر الطائے، انداچ  حزینے دار اولو ، گوکخان تریاکی،  ریئس چیلک ، محمود  فاضل جوشکن،  مہمت بہادر ایر، سردار آقار  اور زینپ  کےچے جیلر  شامل ہیں۔

مقابلے میں،  100 سے زائد ممالک کے 2,618 پروجیکٹوں نے درخواست دی، 79 فائنلسٹ نے ایوارڈ کے لیے مقابلہ کیا۔

طلباء کی فلموں، پیشہ ورانہ اور قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں پروجیکٹ سپورٹ کی طرح کی مختلف   کیٹیگریز میں کل 24 پروجیکٹس کو  ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

12 ویں بین الاقوامی فلموں کی دستاویزی   کیٹیگری میں "بہترین دستاویزی فلم کا ایوارڈ”، زوفیا کوالیسکا نے "اونلی دا ونڈ” فلم، پیٹر ٹریسٹ نے "اے پارکڈ لائف” کے ساتھ وزارت ثقافت اور سیاحت کا خصوصی ایوارڈ جیتا، اور "آفٹر دی ونڈ” نے تیسرا انعام  حاصل کیا۔

مقامی  طلبا کی فلموں کی کیٹگری میں ڈائریکٹر  فاتح  ایر تیکن ، ہارون قوئے باشی ، الہان  ایر باش اور   یاعمور   قارتال   کو ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

 

پچھلا پڑھیں

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ون ڈے آج کھیلا جائے گا

اگلا پڑھیں

سوشل میڈیا کمپنیوں کو جلد سے جلد دہشتگرد مواد کو ہٹانہ ہوگا، یورپی یونین

تبصرہ شامل کریں