ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’کشمیر پاکستان بنے گا نہیں بلکہ کشمیر پاکستان ہے‘۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو لاہور کی یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب اور یونیورسٹی آف لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے ملاقات کی اور سوال و جواب کے تفصیلی سیشنز میں شرکت کی۔
ان نشستوں کے دوران طلبہ نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال، افغانستان اور انڈیا کے ساتھ معاملات، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، سکیورٹی صورتحال، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی ذمہ داریوں سمیت مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان سوالات کے جواب دیتے ہوئے کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے ریاستی مؤقف پیش کیا اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھی بات کی۔
’کشمیر پاکستان بنے گا نہیں، بلکہ کشمیر پاکستان ہے‘
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کشمیر پاکستان بنے گا نہیں بلکہ کشمیر پاکستان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی حکومت پورے خطے کی نمائندہ حکومت ہے اور فطری طور پر انڈیا کے زیرِ قبضہ کشمیر بھی اسی خطے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کے زیرِ قبضہ کشمیر کے عوام کو ہندوتوا حکومت سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔
آزاد کشمیر میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور دھرنوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان سرگرمیوں کو بیرونی عناصر کا ایجنڈا قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ عالمی فورمز پر کشمیر کے مقدمے کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ مہاجرین بھی کشمیری ہیں اور کشمیر ہی ان کا گھر ہے، ان کی نمائندگی ختم ہونے سے پاکستان کا کشمیر سے متعلق مؤقف متاثر ہوگا۔
انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو انڈیا کی پراکسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطالبات سے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
’گزشتہ 13 سال میں گورننس اور ترقی پر توجہ نہیں دی گئی‘
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال سے متعلق ایک طالب علم کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران صوبے میں گورننس اور ترقی پر مناسب توجہ نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں دہشت گرد عناصر کو اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) میں پولیس تھانے، سکول اور ہسپتال غیر فعال ہیں اور دہشت گرد عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پاک فوج خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈھانچے میں موجود کمزوریوں کے باعث پاک فوج کو تعینات کرنا پڑا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، جس کا نتیجہ آج دہشت گردی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
بلوچستان میں ترقی کی مخالفت کون کر رہا ہے؟
بلوچستان کی صورتحال اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے بیانیے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کو فی کس بنیاد پر پنجاب اور خیبر پختونخوا سے بھی زیادہ وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا کہ بی ایل اے کے علاوہ بلوچستان کے بعض نواب اور سردار بھی ترقی مخالف ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، کیونکہ صوبے میں ترقی ہونے سے ان کی جاگیردارانہ حیثیت اور مفادات متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے، نواب اور سردار مل کر بلوچستان کے عوام کو اپنے زیرِ اثر اور غلام رکھنا چاہتے ہیں۔
گمشدہ افراد کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی فہرستوں پر سوالات اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی فہرستوں میں شامل بعض نام ایسے افراد کے ہیں جو بعد میں بی ایل اے میں شامل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے میں شامل ہونے والے افراد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے لاپتہ افراد کی فہرستوں میں پیش کیے جانے والے ناموں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق بعض افراد پہلے بی ایل اے میں شامل ہوتے ہیں اور بعد میں ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرستوں میں شامل کر کے ریاست کے خلاف نفرت اور منفی تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں 80 فیصد خودکش حملوں میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور دہشت گردی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان حکام اور انڈیا کے مبینہ گٹھ جوڑ کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان دنیا کی مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک کھیلنے کا میدان بن چکا ہے، جہاں مختلف ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں آ کر دہشت گردی پھیلاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے 80 فیصد خودکش حملوں میں افغان شہری ملوث ہوتے ہیں اور افغان حکام انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان شہریوں کو ‘نمک حرام’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں افغان عوام کو پناہ دی، انہیں گھر اور رہنے کے لیے جگہ فراہم کی، لیکن اب انہی میں سے بعض افراد پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی ذمہ داریاں
دونوں جامعات میں طلبہ سے گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول میں نوجوانوں کے کردار پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو پروپیگنڈے اور گمراہ کن معلومات سے محفوظ رکھیں۔ سوشل میڈیا پر بعض عناصر ریاست کے خلاف نفرت اور خوف پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ہر بیانیے کو درست تسلیم نہ کریں بلکہ معلومات کی تصدیق کے لیے مستند ذرائع سے رجوع کریں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا اسکرول کرنے سے پہلے نوجوانوں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گمراہ کن بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ناگزیر ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں اور انہیں عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا ہے۔
