fbpx
ozIstanbul

افغانستان میں "اسلامی حکومت” کامیابی کی شرائط(1)

تحریر : اسعد عمران

‌افغانستان میں طالبان کی فقید المثال کامیابی نے دنیا بھر کے اسلام پسندوں کے دلوں میں امید کے دیے روشن کر دئیے ہیں۔اب تمام دنیا کی نظریں انکے طرز حکمرانی اور افغان عوام کے ساتھ انکے مجموعی طرز عمل پر لگی ہوئی ہیں۔

وہ طالبان جو اپنی قوت ایمانی ، جذبہ جہاد اور نصرت الٰہی کے سبب ایک طویل ، کٹھن اور صبر آزما مرحلے میں سرخرو ٹھہرے اب مکمل اقتدار کے حصول کے بعد ایک مختلف نوعیت کی آزمائش اور چیلنجز سے دوچار ہیں ۔

یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ اس مرتبہ وہ اپنی گفتار اور عمل دونوں میں پچھلی دفعہ سے مختلف نظر آ رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ انکے بڑوں نے کھلے دل و دماغ کیساتھ اپنی سابقہ پالیسیوں اور فہم شریعت کو ری تھنک کیا ہے اور غلطیوں سے سبق حاصل کیا ہے۔ اور بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ تمام اندرونی اور بیرونی دشمن انکی کمزوریوں اور غلطیوں سے فائدہ اٹھا کر اور ہر طرح کی سازشوں کے جال بچھا کر انہیں ناکام بنانے کی پوری کوشش کریں گے۔

لہٰذا اس مرتبہ غلطیوں کی گنجائش نہیں بلکہ اصل مقاصد شریعت اور اصول و کلیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور جزئیات اور فروعی معاملات میں اعتدال پسندی اپناتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کرنا اور اپنی حکومت کو کامیاب بنانا ترجیح اول ہونی چاہیے۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ استبدادی طرز حکومت کی بجائے عوام کے دل و دماغ فتح کرنا اور فرقہ وارانہ اور مسلکی سوچ کی بجائے درست اسلامی اصولوں کے مطابق تمام طبقات اور گروپس کو ساتھ لے کر چلنا اصل امتحان ہو گا۔ اس حوالے سے ابتدائی چند دن تو بہت بہتر نظر آئے ہیں خصوصاً جنگ میں فتح کے موقع پر مخالفین کیلئے عام معافی کی پالیسی شریعت اور سنت کے عین مطابق اور جدید مغربی و دیگر اقوام کے ایسے مواقع پر طرز عمل کے بالکل برعکس تھی ۔ اس بات پر طالبان کو جتنا کریڈٹ ملنا چاہیے تھا وہ نہیں ملا۔

اس کے بعد بھی کئ اقدامات خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے متعلق نئ پالیسی، دہشت گردی کیلئے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی، وسیع البنیاد حکومت بنانے کا اعلان اور پریس کانفرنسز میں انکے کئ دیگر اعلانات افغان عوام اور دنیا کیلئے بڑی حدتک اطمینان کا باعث تھے۔

تاہم عالمی میڈیا میں بہت سے ممالک کے سرکاری ترجمان اور بےشمار اوورسیز افغان باشندے سخت بے یقینی اور کئ خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی دوران قومی پرچم کیلئے نکلنے والے مظاہرین پر فائرنگ اور اس حوالے سے غیر ضروری سختی کے کئ واقعات واقعی تشویش ناک محسوس ہوئے۔

اگر طالبان سابقہ قومی پرچم، جس پر مسجد اور اللہ اکبر بھی موجود ہے، کو برقرار رکھیں اور اسکے ساتھ اپنے پارٹی پرچم کی حیثیت سے دونوں کو ساتھ چلائیں تو یہ زیادہ مبنی بر حکمت ہو گا اور اس سلسلے میں شریعت بھی مانع نہیں۔

پاکستان میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھنے سے بہت سے پختون بھائی مطمئن ہوئے۔ کسی کی دلجوئی کیلئے ایسے کام جو خلاف شریعت نہ ہوں ضرور کرنے چاہیں۔ اگرچہ اس وقت فوری طور پرطالبان کی حکومت کو کوئ بڑا داخلی یا خارجی چیلنج درپیش نہیں مگر بہتر پالیسیوں اور کارکردگی کے ذریعے عوام کو اپنا گرویدہ بنانا بےحد ضروری ہے۔ فروعی مسائل پر بےجا سختی اور طاقت کا استعمال تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ درست ترجیحات کا تعین اور نفاذ شریعت کیلئے تدریج کی حکمت عملی بے حد ضروری ہے۔ سید احمد شہید کی تحریک مجاہدین کی کامیابی اور پھر نفاذ شریعت کے بعد پٹھانوں کی بغاوت سے بھی یہی سبق حاصل ہوتا ہے کہ سخت اقدامات سے پہلے عوام الناس کی ذہنی اور اخلاقی تربیت بےحد ضروری ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی تدریج کی حکمت عملی ثابت ہوتی ہے۔ لہذا طاقت کے استعمال اور شرعی سزاؤں کے نفاذ سے قبل معاشرے کی تیاری بےحد لازمی ہے۔

‌سید مودودی رح نے1949 میں اسلامی قانون اور اسکے نفاذ کے متعلق اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
” آج شریعت کے بعض احکامات کے متعلق جو غلط فہمیاں لوگوں میں پائی جاتی ہیں ان میں سے اکثر کی وجہ یہی ہے کہ پورے اسلام پر مجموعی نگاہ ڈالے بغیر اس کے کسی ایک جز کو نکال لیا جاتا ہے’ اور پھر یا تو اسے موجودہ غیر اسلامی نظام زندگی کے اندر رکھ کر رائے قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر بجائے خود اسی جز کو ایک مستقل چیز سمجھ کر اس کے حسن و قبح کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی قانون فوجداری کی بعض دفعات پر آج کے لوگ بہت ناک بھوں چڑھاتے ہیں’ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس نقشۂ زندگی میں یہ قانونی دفعات رکھی گئی ہیں’ اس کے اندر ان کے ساتھ ایک نظام معیشت، ایک نظام معاشرت، ایک نظام حکومت اور ایک نظام تعلیم و تربیت بھی ہے’جو اگر ساتھ ساتھ پوری اجتماعی زندگی میں کام نہ کر رہا ہو’ تو نری ان تعزیری دفعات کو قانون کی کتاب سے نکال کر عدالت کے کمرے میں جاری کر دینا خود اس نقشۂ زندگی کے بھی خلاف ہے۔

بلاشبہ اسلامی قانون چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا دیتا ہے، مگر یہ حکم ہر سوسائٹی میں جاری ہونے کے لیے نہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ اسے اسلام کی اس سوسائٹی میں جاری کرنا مقصود تھا جس کے مالداروں سے زکوٰۃ لی جا رہی ہو۔ جس کا بیت المال ہر حاجت مند کی امداد کے لیے کھلا ہو، جس کی ہر بستی پر مسافروں کی تین دن ضیافت لازم کی گئی ہو، جس کے نظام شریعت میں سب لوگوں کے لیے یکساں حقوق اور برابر کے مواقع ہوں، جس کے معاشی نظام میں طبقوں کی اجارہ داری کے لیے کوئی جگہ نہ ہو اور جائز کسب معاش کے دروازے سب کے لیے کھلے ہوں، جس کے نظام تعلیم و تربیت نے ملک کے عام افراد میں خدا کا خوف اور اس کی رضا کا شوق پیدا کر دیا ہو ، جس کے اخلاقی ماحول میں فیاضی، مصیبت زدوں کی دست گیری، حاجت مندوں کی اعانت اور گرتوں کو سہارا دینے کا عام چرچا ہو اور جس کے بچے بچے کو یہ سبق دیا گیا ہو کہ تو مومن نہیں ہے’ اگر تیرا ہمسایہ بھوکا ہو اور تو خود پیٹ بھر کر کھانا کھا بیٹھے۔ ”

چنانچہ دیرپا اور مؤثر نتائج کیلئے اس مرتبہ طالبان کو ظاھری اور علامتی چیزوں پر اصرار کی بجائے پورے اجتماعی نظام میں حقیقی اور جوہری تبدیلیاں برپا کرنے پر فوکس کرنا چاہیے۔ خصوصاً نظام ہائے سیاست، معیشت، معاشرت ، تعلیم و تربیت، امن و امان اور گورننس کیلئے اسلامی اصولوں کی روشنی میں جدید اصلاحات نافذ کرنا کامیابی کی کلید ہوگی۔ اس سلسلے میں مقامی علماء اور ماہرین کے علاوہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں سے استفادہ کرنا نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی اسلامی حکومت کی کامیابی کے چند اہم ترین اشاریے اور اہداف مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں:
1. ملوکیت، پاپائیت اور مغربی جمہوریت کے برعکس
اسلامی اصولوں کے مطابق جدید نظام سیاست،
2- سود سے پاک معیشت،
3- بااخلاق، مہذب اور پاکیزہ معاشرت
4- اسلامی نظام تعلیم و تربیت اور ذرائع ابلاغ کی اصلاح
5- امن و امان کا قیام ، ستا اور فوری نظام انصاف
6- قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں، کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس۔
7- معاشرے کے کمزور طبقات خواتین، اقلیتوں اور غریب عوام کی بحالی کیلئے خصوصی اقدامات

یہ تمام امور درست انداز فکر، وسیع پیمانے پر مشاورت، تجزیہ و تحقیق اور سنجیدہ اقدامات کے متقاضی ہیں۔

طالبان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ انکے ہر اچھے یا غلط کام کے عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔ لہذا اب اپنی پارٹی اور ملک کے علاوہ دور حاضر میں دین اسلام کی ساکھ اور عزت بھی ان کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر وہ درست حکمت عملی اور ادارہ سازی کے ذریعے بہترین نتائج پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ تمام عالم اسلام اور دنیا بھر کیلئے یہ ثابت کرنے میں رول ماڈل بن سکتے ہیں کہ اسلامی حکومت اور اسلامی نظام ہی انسانیت کے مسائل کا حل اور دکھوں کا مداوا ہے۔ دیگر سب نظریات اور نظام ہائے زندگی محض فریب اور نظر کا دھوکا ہیں۔ جس طرح جہاد کے اسلامی عمل سے سپر پاورز کے تمام وسائل اور ٹیکنالوجی کی حقیقت کا پردہ چاک ہوا اسی طرح اسلامی حکومت کے رستے میں حائل تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کو یقین محکم عمل پیہم اور محبت فاتحِ عالم کی شمشیروں کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے۔ طال بان کی قیادت کا ذہن مستقبل کے تقاضوں کے حوالے سے یقیناً تبدیل ہوا ہے مگر نچلی سطح پر اور عوام الناس کی سوچ میں تبدیلی کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

آئین نو سے لڑنا, طرز کہن پے اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

پچھلا پڑھیں

افغانستان سے 31 اگست کے بعد بھی انخلا کی اجازت ہوگی، طالبان کی یقین دہانی

اگلا پڑھیں

پاکستان میں امریکی فوجیوں کا قیام عارضی ہے،وزیر داخلہ شیخ رشید

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے