fbpx
ozIstanbul

یورپی یونین: نئے قانون کے مطابق کمپنیاں کچھ مخصوص صورتوں میں خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتی ہیں

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت کے مطابق کمپنیاں خواتین ملازمین کے کچھ صورتوں میں اسکارف پہننے پر پابندی عائد کرسکتی ہیں۔

یورپی یونین کی ایک اعلیٰ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کو کام کی جگہ پر ظاہری علامت کے طور پر کسی بھی مذہبی ، سیاسی یانظریاتی علامت کے استعمال سے روک سکتی ہیں۔

لکسمبرگ میں قائم اس ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک سے کہا کہ وہ یہ خود طے کریں کہ ان کے ملک میں موجود کمپنیوں میں اس پابندی کے اطلاق کی کس حد تک ضرورت ہے۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے کسی بھی فیصلے سے پہلے ملازمین کے حقوق اور آزادی مذہب کا خیال رکھتے ہوئے ملکی قانون سازی کو بھی مد نظر رکھا جائے۔

واضح رہے یہ کیس یورپی عدالت میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جنہیں دفتر میں اسکارف پہننے کی وجہ سے معطل کردیا گیا تھا۔

یورپ میں کئی سالوں سے خواتین کے اسکارف اور حجاب پہننے پر تنازعات جاری ہیں۔

اس سے قبل 2017 میں بھی اسی عدالت نے اسکارٖف پہننے کا اختیار کمپنیوں کو دیتے ہوئے مسلم خواتین ملازمین کے کچھ صورتوں میں اسکارف پہننے پر پابندی عائد کی تھی جس پر مسلمانوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

پچھلا پڑھیں

صدر ایردوان نے ڈیموکریسی میوزیم کا افتتاح کر دیا

اگلا پڑھیں

افغانستان: طالبان اور افغان فورسز میں جھڑپیں، رائٹرز کا صحافی قتل

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے